Saturday , December 5 2020

سرکاری املاک سے ٹی آر ایس اشتہارات نکالے جائیں

Congress delegation comprising of Capt.Uttam Kumar Reddy , MP and TPCC President, MLC Jeevan Reddy, City President Anjan Yadav, G Niranjan, met state election Commr Parthasarathi and represented against TRS advertisements on government/ semi government properties in hyderabad on Saturday.Pic:Style Photo service.

برسر اقتدار پارٹی کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ الیکشن کمشنر سے کانگریس کی شکایت

حیدرآباد۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر و رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی نے ریاستی الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد میٹرو کے پلرس اور دوسرے عوامی مقامات سے ٹی آر ایس پارٹی کے اشتہارات کو نکال دیا جائے ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل کے تقریبا تمام ہی پلرس پر اپنے اشتہارات لگائے ہیں ۔ ایل اینڈ ٹی میٹرو ایک عوامی خانگی شراکت والی کمپنی ہے اور ریاستی و مرکزی حکومتوں نے اس کی فنڈنگ کی ہے ۔ حکومت ہند نے اس کیلئے 2,000 کروڑ روپئے فراہم کئے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اراضی فراہم کی گئی ہے اتم کمار ریڈی نے ریاستی الیکشن کمشنر سی پارتا سارتھی سے ایک شکایت درج کرواتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس کی جان سے آر ٹی سی بس شیلٹرس ‘ عوامی بیت الخلا وغیرہ پر بھی اپنے اشتہارات لگائے گئے ہیں۔ الیکشن کمشنر سے شکایت کے وقت پارٹی کے سینئر قائدین بشمول ایم ایل سی جیون ریڈی ‘ حیدرآباد سٹی کانگریس کے صدر انجن کمار یادو ‘ تلنگانہ کانگریس کے جنرل سکریٹری جی نرنجن اور دوسرے موجود تھے ۔

بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ یہ ایک مروجہ اصول ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اشتہارات کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری املاک پر انتخابی مہم کے دوران نہیں لگائے جاسکتے ۔ ہم نے ریاستی الیکشن کمیشن سے خواہش کی ہے کہ وہ احکام جاری کرتے ہوئے میٹرو ریل کے پلرس ‘ آر ٹی سی بسوںوغیرہ سے ٹی ار ایس کے اشتہارات کو نکال دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی آر ایس کے خلاف کارروائی بھی کی جائے ۔ اتم کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور مجلس جی ایچ ایم سی انتخابات کے دوران ووٹوں کو ہندو ۔ مسلم کی اساس پر بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے حیدرآباد کیلئے کچھ نہیں کیا ہے ۔ آئی ٹی انوسٹمنٹ ریجن کی منظوری یو پی اے حکومت نے دی تھی ۔ اسے مرکز کی بی جے پی حکومت نے منسوخ کردیا ہے ۔ انہوں نے بی جے پی اور مجلس کو ایک ہی سکہ کے دو رخ قررا دیا اور کہا کہ دونوں ہی جماعتیں سماج میں فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم چاہتی ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ اگر مجلس مقابلہ نہیں کرتی تو بہار میں آر جے ڈی قیادت والا مہاگٹھ بندھن اقتدار حاصل کرلیتا ۔ مجلس ہر سطح پر بی جے پی کو مستحکم کر رہی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT