سرکاری زیرانتظام اسکول میں بچوں کے داخلہ سے انکار

   

پاکستانی نژاد شہری کی عدالت میں درخواست ، عدالت کی جواب طلبی
نئی دہلی ۔ 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے جمعہ کے دن عآپ حکومت سے جواب طلبی کی جبکہ ایک پاکستانی نژاد شہری نے اس کے تین بچوں کو سرکاری زیرانتظام اسکول میں داخلہ سے انکار کیا گیا۔ جسٹس راجیو شکدھر نے ڈائرکٹر ایجوکیشن حکومت دہلی اور اسکولس کے خلاف جو حکومت کے زیرانتظام ہے، نوٹسیں جاری کرتے ہوئے ان سے جوابی حلفنامہ داخل کرنے کیلئے کہا۔ گلشیر جو پاکستان سے ترک وطن کرکے اپنے خاندان کے ساتھ مئی میں جاریہ سال ہندوستان آیا تھا، دہلی حکومت کے مراسلہ بابتہ 2016ء کو بھی چیلنج کیا۔ اس کے بموجب بالائی امور کی حد برائے داخلہ سرکاری زیرانتظام اسکولس میں مختلف کلاسیس میں داخلہ کیلئے مقرر کی گئی ہیں۔ عدالت نے مقدمہ کی آئندہ سماعت 17 اکٹوبر کو مقرر کی ہے۔ وکیل صفائی اشوک اگروال نے کہا کہ تینوں بچے دو لڑکیاں اور ایک لڑکا پانچ جولائی کو نویں جماعت میں داخلہ کیلئے رجسٹر کئے گئے تھے لیکن انہیں 8 جولائی تا 14 ستمبر کلاسیس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور ان کا نام اسکول سے خارج کردیا گیا جو غیر روایتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے پہلے ہی کتابیں، یونیفارم اور دیگر اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کی اشیاء حاصل کرچکے ہیں۔ لڑکیوں کے اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ میں انکشاف کیا گیا ہیکہ وہ آٹھویں جماعت کامیاب ہیں جبکہ بچے کو دسویں جماعت کے امتحانات میں شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔ تینوں کو اسکول سے خارج کردیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں 2016ء کے مراسلہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ درخواست گذار نے ادعا کیا ہیکہ یہ کارروائی حکومت کی ایماء پر کی گئی ہے اور اسکول غیردستوری جانبدارانہ فرق و امتیاز کرنے والی اور تعلیم کی طمانیت کی خلاف ورزی کرنے والی ہے۔ تینوں بچوں کے والد نے دہلی حکومت کو ہدایت دینے کی درخواست کی ہیکہ انہیں اسکول کی نویں جماعت میں داخلہ کی اجازت دی جائے۔ یہ اسکول بھٹی مائنس چھترپور میں واقع ہے۔