سرکاری ملازمین کو اپنے ہی پی ایف کی رقم حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا

   

بیٹی کی شادی اور سعادت حج کیلئے قرض کے حصول پر مجبور ۔ ملازمین میں حکومت کے تعلق سے ناراضگی
حیدرآباد 30 ڈسمبر(سیاست نیوز) سرکاری ملازمت کسی زمانے میں راحت کا سبب ہوا کرتی تھی اور اگر کوئی سرکاری ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا تو اس کا فائدہ اسے ’زندگی کے ساتھ بھی اور زندگی کے بعد بھی ‘ ملا کرتا تھا لیکن اب جبکہ پنشن اسکیم نہیں رہی اورملازمت کے دوران مسائل نے ملازمین کو مشکلات میں مبتلاء کرنا شروع کردیا ہے۔ حکومت ملازمین کی نہ صرف تائید سے محروم ہونے لگی ہے بلکہ ملازمین میں حکومت کے متعلق برہمی میں اضافہ ہونے لگا ہے اور منتخبہ عوامی نمائندے ملازمین بالخصوص مؤظف ملازمین کے مسائل کو نظرانداز کرنے لگے ہیں جو ملازمین سے ناانصافی ہے۔ مختلف سرکاری محکمہ جات میں برسرکار ملازمین اپنے پی۔ایف اور دیگر بقایا جات کیلئے مشکل دور سے گذر رہے ہیں۔ وظیفہ پر سبکدوش ملازمین کو سبکدوشی کے فوائد کی عدم اجرائی سے مشکلات کا سامنا ہے ۔ سرکاری ملازمین کو اپنی رقومات پانے بھی کئی ماہ کا انتظار کرنا پڑرہا ہے جبکہ کئی ملازمین جو برسرخدمت ہیں اور اپنی تعطیلات اور رخصتوں کی تنخواہ کیلئے کوشاں ہیں اور مسلسل درخواستیں داخل کر رہے ہیں انہیں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ محکمہ تعلیم میں برسرکار ایک خاتون مدرس نے بتایا کہ وہ ایک تنہاء ماں ہیں اور اپنی ملازمت اور جمع کئے گئے پی ۔ایف کی بنیاد پر بیٹی کی شادی کی تاریخ مقرر کردی تھیں لیکن شادی کیلئے پی ۔ایف حاصل نہیں ہوپایا جس کے نتیجہ میں قرض لے کر شادی کردی گئی ایک سال گذرچکا ہے اور اب بھی پی ۔ایف کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ چند ماہ میں وہ وظیفہ پر سبکدوش ہونے والی ہیں اور قرض دہندہ کی جانب سے تقاضہ کیا جانے لگا ہے ۔ اسی طرح محکمہ تعلیم کے ہی ایک ملازم نے بتایا کہ ان کی اپنی رقومات جو پی ۔ایف میں جمع کروائی گئی تھیں ان کی اجرائی میں تاخیر کے سبب ان کا نظام زندگی درہم برہم ہوچکا ہے اور سرکاری ملازم ہونے کے سبب حکومت کی اسکیمات سے استفادہ کے اہل نہیں ہیں۔انہو ںنے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کیلئے محفوظ کئے گئے پی ۔ ایف سے 2 سال سے محروم ہیں اور حکومت کی اوورسیز اسکالر شپس کیلئے درخواست کے بھی اہل نہیں ہیں اسی لئے قرض حاصل کرکے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کا انتظام کر رہے ہیں حالانکہ ان کے پی ۔ایف میں جو قرض حاصل کیاگیا اس سے زیادہ رقومات موجود ہیں۔ وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد حج بیت اللہ کا ارادہ کرنے والے ایک وظیفہ یاب نے بتایا کہ سال گذشتہ وظیفہ پر سبکدوشی پر رقم سے حج کا منصوبہ تھا اور قرعہ میں ان کا انتخاب بھی ہوگیا لیکن وظیفہ کے فوائد حاصل نہیں ہوپائے اسی لئے وہ سال گذشتہ حج بیت اللہ کیلئے روانہ نہیں ہوپائے اور جاریہ سال بھی خوش قسمتی سے ان کا انتخاب ہوچکا ہے لیکن اب وہ قرض حاصل کرکے حج کی رقومات جمع کرواچکے ہیں حالانکہ اب بھی انہیں وظیفہ کے فوائد جو حاصل ہونے تھے نہیں ہوپائے ہیں۔3