عوامی نمائندوں کی تنخواہوں میں 75 فیصد، آئی اے ایس ، آئی پی ایس افسران کی تنخواہوں 60 فیصدتخفیف کا اعلان
تلنگانہ کو ماہانہ 12,000 کروڑ کی آمدنی ضروری
لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود محض3,100 کروڑ کی آمدنی
تلنگانہ پر 37400 کروڑ روپئے قرض کی سالانہ قسط ادا طلب
ٹرانسپورٹ، رجسٹریشن اور دیگر محکمہ جات سے حسب توقع آمدنی نہ ہوسکی
حیدرآباد۔/27 مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت تلنگانہ نے چہارشنبہ کو ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ماہِ مئی کے دوران عوامی نمائندوں سے لیکر کنٹراکٹ ورکرس کی تنخواہوں میں کٹوتی کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق تمام عوامی نمائندوں کی تنخواہوں میں 75 فیصد ، آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران کی تنخواہوں میں 60 فیصد، عام ریاستی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد، وظیفہ یابوں کے وظائف میں 25 فیصد اور آؤٹ سورسنگ و کنٹراکٹ ورکرس کی اُجرتوں میں 10 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔حکومت نے وضاحت کی کہ لاک ڈاؤن کے سبب تلنگانہ میں چونکہ ریاست کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے چنانچہ ماہِ مئی کے دوران بھی ان تمام کی تنخواہوں میں بدستور کٹوتی جاری رہے گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پرگتی بھون میں محکمہ فینانس کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران بھی ان تنخواہوں اور اُجرتوں میں کٹوتی کی گئی تھی۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کو ہر ماہ کم سے کم 12,000 کروڑ روپئے کی آمدنی ضروری ہے لیکن لاک ڈاؤن کے سبب محض 3,100 کروڑ کی آمدنی ہوئی اور اس میں بھی مرکزی ٹیکسس کا حصہ 982 کروڑ شامل ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ ریاست کو واجب الادا قرض کی اقساط کے طور پر سالانہ 37,400 کروڑ روپئے ادا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ریاستی حکومت نے اگرچہ لاک ڈاؤن کے رہنمایانہ خطوط میں کئی رعایتیں اور نرمی پیدا کی تھی لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور نہ ہی آمدنی میں کوئی قابل لحاظ اضافہ ہوسکا۔ ٹرانسپورٹ، رجسٹریشن اور دیگر محکمہ جات سے آمدنی توقع کے مطابق نہیں ہوسکی۔‘‘ چیف منسٹر نے کہا کہ ’’ اگر ملازمین کی تنخواہیں اور وظائف مکمل ادا کئے گئے تو اس سے 3,000 کروڑ روپئے کے زائد مصارف ہوں گے اور سارا سرکاری خزانہ خالی ہوجائے گا چنانچہ ریاست میں جاری مختلف کاموں پر ادائیگی کیلئے کوئی رقم نہیں رہے گی۔ چنانچہ ہمیں مناسب حکمت عملی اختیار کرنا تھا البتہ وظیفہ پیرانہ سالی کی مکمل رقم ادا کی جائے گی۔‘‘ لاک ڈاؤن کے رہنمایانہ خطوط میں نرمی کی گئی ہے چنانچہ مزدوروں اور محنت کشوں کو روزانہ کام مل جائے گا چنانچہ اس ماہ 1,500 نقد رقم نہیں دی جائے گی۔‘‘