سرینگر میں محرم کے جلوسوں پر برسوں سےعائد پابندی برخاست کرنے پر غور

   

سرینگر: کشمیر کے ڈویڑنل کمشنر وجے کمار بدھوری نے منگل کو کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ سری نگر شہر میں محرم کے دو بڑے جلوسوں پر دہائیوں پرانی پابندی کو ہٹانے کیلئے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے شیعہ برادری کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ ان دونوں جلوسوں میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد بتائیں۔ فیصلہ اب ان نے ہاتھ میں ہے، اہلکار نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ محرم کے اسلامی مہینے میں شہر کے دو روٹس پر محرم کے دو بڑے جلوسوں پر عشروں قبل عائد پابندی کے خاتمے کیلئے اجلاس کا ایک سلسلہ منعقد کیا گیا۔ عراق کے شہر کربلا میں یزید کی فوج کے ہاتھوں پیغمبر اسلام (ص) کے نواسے امام حسین (ر)کی شہادت کے سوگ میں مقامی شیعہ مسلمان ماہ محرم کی 8 اور 10 تاریخ کو دو بڑے ماتمی جلوس نکالیں گے۔ سینئر سرکاری عہدیدار کا یہ بیان ایل جی منوج سنہا کے ساتھ ملاقات کے بعد آیا جہاں محرم کے جلوسوں کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دریں اثناء شیعہ رہنما اور سابق وزیر عمران رضا انصاری نے صحافیوں کو بتایا کہ ان انتظامات پر چیف سکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا کے ساتھ بحث کے بعد وہ اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے۔