سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کیلئے ایران ذمہ دار : مائیک پومپیو

,

   

Ferty9 Clinic

پیداوار میں 50فیصد کمی ،یمن سے حوثی باغیوں نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ،ایران اور عراق کی تردید
واشنگٹن ۔15ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے ہوفتہ کو سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا ہے۔مائیک پومپیو نے یمنی حوثی باغیوں کے اس دعوے کو رد کیا ہے جس میں انہوں نے بقیق اور خریص میں سعودی تیل کمپنی |آرامکو‘ پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔سعودی عرب کے وزیر توانائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تیل تنصیبات پر حملوں سے خام تیل کی پیداوار میں 57 لاکھ بیرل فی دن کمی واقع ہوئی ہے، جو ملک میں تیل کی نصف پیداوار ہے۔ماہرین کے مطابق اس واقعے سے عالمی تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیو میں بقیق میں ڈرون حملے کے بعد آرامکو کے تیل کے سب سے بڑے پراسیسنگ پلانٹ پر لگی آگ کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ خریص میں دوسرے حملے سے بھی کافی نقصان ہوا ہے۔سعودی عرب اور مغربی ممالک کا فوجی اتحاد یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے جبکہ یمن میں حوثی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔امریکی اخبار’’ وال اسٹریٹ جنرل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین اس بات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے ایران یا عراق میں موجود ان کے حمایتی ہو سکتے ہیں جنھوں نے ڈرونز کی جگہ کروز میزائل استعمال کیے۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھنا شروع ہوئی جب گذشتہ سال واشنگٹن نے یکطرفہ طور پر سنہ 2015 کے جوہری معاہدے سے خود کو علیحدہ کر لیا۔ اس کے بعد سے امریکہ نے ایران کے تیل کے شعبے پر از سر نو پابندیاں عائد کر دیں ہیں۔اپنی ٹویٹ میں امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ڈرون یمن سے آئے۔انہوںنے اس واقعہ کو ’دنیا کی توانائی کی فراہمی پر ایک غیر معمولی حملہ‘ قرار دیا ہے۔مائیک پومپیو نے کہا ’ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران کی جانب سے کیے گئے اس حملے کی عوامی سطح پر مذمت کریں ۔

انہوںنے زور دیا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ اشتراک سے کوشش کرے گا کہ توانائی کی منڈیوں میں تیل کی فراہمی بغیر رکے جاری رہے۔مگر سعودی سرکاری میڈیا نے اپنی خبروں میں یہ نہیں بتایا کہ ان تازہ حملوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فون پر امریکی صدر ٹرمپ کو بتایا ہے کہ ’شدت پسند جارحیت کا مقابلہ کیا جائے گا۔‘یمن میں حوثی باغیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مشرقی سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل ریفائنری پر حملے کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بقیق پلانٹ اور خریص آئل فیلڈ پر حملے کے لیے 10 ڈرون بھیجے تھے۔ اس کے علاوہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف حملوں کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ حملوں کا الزام بھی یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں پر عائد کیا گیا تھا۔سعودی سکیورٹی فورسز نے 2006 میں القاعدہ کی جانب سے بقیق کی تیل تنصیبات پر حملے کی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔گذشتہ ماہ شیبہ میں قدرتی گیس کو مائع بنانے والی تنصیبات پر اور مئی میں دیگر تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے لیے حوثی جنگجوؤں کو سعودی عرب کی جانب سے موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ایران کی حمایت یافتہ باغی تحریک یمنی حکومت اور سعودی اتحاد کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ایران اور عراق نے تنصیبات پر حملہ کی تردید کردی جبکہ سعودی عرب کے تیل ذخائر میں 50فیصد کمی آئی ۔

سعودی پر حملے کے بعد علاقہ میں کشیدگی کا اندیشہ
دوبئی 15 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب کے تیل کے ٹھکانے پر ہوئے ڈرون حملے کے بعد نہ صرف مملکت کی تیل کی پیداوار روک دی گئی ہے بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی بھی کم ہوگئی ہے ۔ علاوہ ازیں کہا جا رہا ہے کہ علاقہ میں کشیدگی کے اندیشوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ ایران کی عالمی طاقتوں کے ساتھ نیوکلئیر معاملت پر بات چیت بھی ناکام ہوتی جا رہی ہے ۔ ایران نے امریکہ کے اس دعوی کو مسترد کردیا ہے کہ اس نے ہی سعودی عرب پرحملہ کیا ہے ۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ سراسر جھوٹ ہے ۔ اس دوران ایران کی انقلابی گارڈ کے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ ان کی افواج مشرق وسطی میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر بیالسٹک میزائیلوں سے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ گارڈ کے بریگیڈئیر جنرل امیر علی حاجی زادہ نے کہا کہ کشیدگی اور حساس صورتحال کی وجہ سے ہمارا علاقہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلح افواج ایک دوسرے سے رابطے میں آئیں تو پھر تصادم کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیںاور ایک جنگ بھی چھڑ سکتی ہے ۔ واضح رہے کہ علاقہ میں آئیل ٹینکرس پر پہلے بھی حملے ہوئے ہیں اور ان کیلئے بھی امریکہ نے ایران کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔