سماجی ناانصافیوں کے خاتمہ میں شعرا اور ادیبوں کا اہم رول

   

اردو کیلئے پروفیسر مسعود احمد کی خدمات قابل قدر۔ سید منہاج الدین، اشفاق حیدر اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد 14 اکتوبر( راست) حیدرآباد کی ادبی و شعری محفلیں منفرد اور قابل سماعت ہوتی ہیں اردو زبان کی محفلوں میں شریک ہونا باعث اعزاز ہے اور جو لوگ یہ محفلیں منعقد کرتے ہیں وہ قابل مبارک ہیں ایسے ہی اردو کے خدمت گزار اور اردو کے سچے بہی خوا ہوں میں پروفیسر محمد مسعود احمدنمایاں ہیں اردو کیلئے ان کی خدمات مثالی ہیں ان خیالات کا اظہار جناب سید منہاج الدین چیئرمین وبانی تلنگانہ ویلفیئر اسوسی ایشن سعودی عرب نے کیا ۔ ان کے اعزاز میں تہنیتی تقریب و مشاعرہ منعقد کیا گیا تھا ۔ جناب اشفاق حیدر چیئرمین سروجنی نائیڈو ونیتامہا ودیا لیہ مہمان خصوصی تھے ادبی اجلاس اور مشاعرہ کی صدارت جناب افتخار حسین نے کی ڈاکٹر مخدوم محی الدین مہمان اعزازی تھے ۔ جناب سید منہاج الدین نے پروفیسر محمد مسعود احمد کو اردو کا سچا بے لوث سپاہی قرار دیا اور کہا کہ اردو زبان و ادب کیلئے ان کی خدمات قابل تقلید ہیں وہ سچے اور خالص جذبہ سے اردو کی خدمت اور شعرا وادیبوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اردو والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں میں اور تقاریب میں اردو میں بات کے ماحول کو عام کریں جب تک گھروں اور ماحول میں اردو زندہ رہے گی اردو ہمیشہ شاد و آباد رہے گی پروفیسر محمد مسعود احمد نے جناب سید منہاج الدین اور جناب اشفاق حیدر ،افتخار حسین اور دیگر کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اردو کی خدمت اور شعرا اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ایوان احمد رباط محبان اردو میں ایسی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں ایوان احمدکے دروازے شعرا اور ادیبوں کیلئے ہمیشہ کھلے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی جب عوام سے بے رخی ہوتی ہے یا نا انصافیاں ہوتی ہیں شعرا برادری ہی اپنے کلام سے قوم میں انقلاب برپا کرتی ہے ۔ مہمان خصوصی جناب اشفاق حیدر نے اظہار مسرت کیا ا۔ پروفیسر محمد مسعود احمد کو مبارک باد دی اور کہا کہ ایسی محفلیں ادبی دنیا میں انفرادی مقام رکھتی ہیں۔ انہوں نے مختلف شعرائکے کلام پر اظہار پسندیدگی کیا اور کہا کہ شاعری دلوں کو جھنجوڑنے کا موثر ذریعہ ہے ۔ جناب افتخار حسین صدر و بانی فیض عام ٹرسٹ نے کہا کہ ٹرسٹ سے ممکنہ حد تک ضرورتمندوں کی مدد کی جاتی ہے اس کا مقصد شہرت حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ جناب وحید الدین خان ،جناب راشد علی خان ، جناب قمر الدین علی خان ،ڈاکٹر ایس اے ستار ،ڈاکٹر آصف علی، ارشاد سہیل، جہانگیر قیاس، سہیل عظیم و دیگر موجود تھے ۔ قبل ازیں مشاعرہ ہوا جس میں سید سمیع اللہ سمیع، پروفیسر محمد مسعود احمد، وحید پاشاہ قادری ، اسماعیل ذبیح اللہ، انجنی کمار گوئل، نوید جعفری نے کلام سنایا وحید پاشاہ قادری نے مزاحیہ کلام سنا کر داد پائی ۔ پروفیسر مسعود احمد کی تخلیقات احساسات مسعود اور تخلیقات مسعود مہمانوں اور شرکائکو بطور تحفہ پیش کی گئی ۔