سماج میں شاعرو ں، فنکاروں کی خاموشی کینسر سے بھی زیادہ خطرناک

   


تعزیتی جلسہ میں حکمران جماعت کے رکن اسمبلی کا سنسنی خیز ریمارک ، ٹی آر ایس حلقوں میں موضوع بحث
حیدرآباد :۔ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی آر بالکشن نے سنسنی خیز ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں شاعروں اور فنکاروں کا خاموش رہنا کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے ، آج انہوں نے محبوب آباد کے مشہور شاعر جیہ راجو کی والدہ کے تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک حکمران جماعت کے رکن اسمبلی ہونے کی وجہ سے دل کی بات زبان پر لانے سے قاصر ہے ۔ وہ فی الوقت ایک لمٹیڈ کمپنی میں کام کررہے ہیں وہ تازہ حالت پر کوئی اظہار خیال نہیں کررہے ہیں جس سے کئی لوگ ان سے دور ہوگئے ہیں ۔ اسمبلی حلقہ مانکنڈور ضلع کریم نگر کی نمائندگی کرنے والے رکن اسمبلی آر بالکشن تلنگانہ کلچرل سوسائٹی کے صدر نشین بھی ہیں ان کا یہ سنسنی خیز ریمارک دیکھتے ہی دیکھتے ٹی آر ایس حلقوں میں تیزی سے وائرل ہوگیا اور اس پر بحث بھی شروع ہوگئی ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک میں بحیثیت فنکار آر بالکشن نے اس وقت کی کانگریس حکومت اور حکمرانوں ، وزراء کے خلاف اپنے ناچ اور گیتوں سے عوام میں شعور بیدار اور عوام میں تلنگانہ تحریک کو اجاگر کرنے میں غیر معمولی رول ادا کیا ۔ ان کی اس خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹی آر ایس پارٹی نے انہیں ٹکٹ دیا اور کامیاب بنایا ۔ اس کے بعد انہیں کلچرل سوسائٹی کا صدر نشین بھی بنایا ۔ یہی نہیں انہوں نے اسمبلی اجلاس کے دوران حکومت کے فلاحی اسکیمات کے مباحث میں شاعرانہ انداز میں چیف منسٹر کے سی آر کی ستائش کیا کرتے تھے اچانک ان کے رویہ میں تبدیلی پر ٹی آر ایس میں ایک نئی بحث شروع ہوچکی ہے ۔ ٹی آر ایس میں ایک طرف کے ٹی آر کو چیف منسٹر بنانے کی مہم زور پکڑ چکی ہے تو دوسری طرف وزراء اور چند ارکان اسمبلی کا جداگانہ ہونے پر یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔ آخر کار ٹی آر ایس میں کیا چل رہا ہے ۔ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی کے تازہ ریمارکس بالواسطہ طور پر تلنگانہ حکومت کے خلاف ہے ۔ ریاست میں اتنا سب کچھ ہورہا ہے ۔ شاعر ادیبوں اور فنکاروں کی خاموشی پر سوالیہ نشان ہے ۔۔