کولکتہ ۔ : مغربی بنگال کے سب سے زیادہ چرچا میں رہے سندیش کھالی معاملہ کی دوسری متاثرہ خاتون نے بھی اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی ہے ۔ قبل ازیں پہلی خاتون بھی اپنے بیان سے منحرف ہوگئی تھی ۔ بی جے پی قائدین نے ان دونوں سے کورے کاغذ پر دستخط کرواکر زیادتی ہونے کی شکایت درج کروادی تھی ۔ 5-6 دن بعد اسے اطلاع ملی تھی کہ اس کے ساتھ زیادتی کئے جانے کا ایک معاملہ پولیس میں درج ہوا ہے جس کے بعد متاثرہ خاتون اور اس کی ساس نے بشیرہاٹ میں مجسٹریٹ کے روبرو اپنا بیان بھی درج کروایا تھا ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی امیدوار ریکھا پاترا نے بی جے پی قائد گنگا دھر کے خلاف شکایت درج کرائی ہے ۔ مبینہ طور پر متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی ،اس کے باوجود بی جے پی قائدین نے ان کی عزت سرعام نیلام کی اور کورے کاغذ پر دستخط لینے کے بعد یہ کہا تھا کہ تم لوگوں کو زمین مل جائے گی ۔
بہرحال سیاسی ہتھکنڈوں کا شکار ہونے والی خواتین یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ سیاست کی شطرنج کی بساط پر انہیں بھی ایک مہرہ کے طور پر استعمال کیا گیا ۔
سندیش کھالی معاملہ پر خواتین کمیشن کا الیکشن کمیشن کو مکتوب
نئی دہلی: خواتین کے قومی کمیشن نے مغربی بنگال کے سندیش کھالی میں خواتین کی جنسی ہراسانی کی شکایات واپس لینے کے لیے ڈرانے دھمکانے کے معاملے کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر اس میں مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے ۔ خواتین کمیشن نے جمعہ کو یہاں کہا کہ کمیشن کی چیرپرسن ریکھا شرما نے سندیش کھالی معاملے میں الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے ، جس میں محترمہ شرما نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات 2024 کے درمیان سندیش کھالی کی خواتین پر اپنی شکایات واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ ان خواتین کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ترنمول کانگریس کے کارکن سندیش کھالی کی خواتین کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور ان پر اپنی شکایات واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جس سے خواتین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔