ملازمین کے نمائندوں کے ساتھ راؤنڈ ٹیبل اجلاس، بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ جاگروتی کی صدر کے کویتا نے اعلان کیا کہ سنگارینی کالریز کے تحفظ کے لئے عنقریب ایک اور جدوجہد شروع کی جائے گی۔ انہوں نے ملازمین کے تقررات کے مسئلہ پر ویجلنس اور اے سی بی تحقیقات سے متعلق ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کے بیان کی مذمت کی۔ تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے سنگارینی کالریز کے تحفظ کے مسئلہ پر راؤنڈ ٹیبل اجلاس منعقد کیا گیا۔ کویتا نے اس موقع پر کہا کہ کسی بھی ملک میں اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ قدرتی وسائل سے عوام کو فائدہ پہنچے۔ سنگارینی کالریز جو کوئلہ کا ایک اہم ذخیرہ ہے اس کے فوائد مقامی افراد کو حاصل نہیں ہو رہے ہیں۔ متحدہ آندھرا پردیش میں ملازمین کو جس طرح کے مسائل کا سامنا تھا آج بھی علیحدہ ریاست کے باوجود صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں تلنگانہ کے نوجوان بیرونی ممالک یا دیگر ریاستوں کا رخ کررہے تھے تاکہ روزگار کے ذریعہ خاندان کی کفالت کریں۔ علیحدہ ریاست کے قیام کے باوجود حکومت کو سنگارینی کالریز کے تحفظ اور ملازمین کے مسائل کی یکسوئی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی زندگی کو خطرہ میں ڈال کر کوئلہ نکالنے والے ورکرس کی بھلائی سے حکومت کو دلچسپی نہیں ہے۔ علیحدہ ریاست کے قیام کے بعد 20,000 افراد کو روزگار فراہم کیا گیا تھا لیکن موجودہ کانگریس حکومت ملازمتوں کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے سنگارینی کالریز سے متعلق حکومت کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ سنگارینی کالریز میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کرے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف اسکامس کے ذریعہ سنگارینی کالریز کو 1078 کروڑ کا خسارہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگارینی کالریز کے تحفظ کے لئے مرکزی وزیر کوئلہ و کانکنی کشن ریڈی کو مساعی کرنی چاہئے۔ انہوں نے سنگارینی ملازمین کی تنظیموں کی جدوجہد کی مکمل تائید کا اعلان کیا۔ 1 ؍ F؍M