وقف بورڈ کی اجازت کے باوجود شرپسندی، قبرستان کی اراضی میں سڑک کی تعمیر
حیدرآباد: سنگا ریڈی ضلع کے جنارم منڈل کے تحت مسلم قبرستان کی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں تلنگانہ وقف بورڈ کو فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلم قبرستان کے تحت کئی ایکر اراضی موجود ہے جو درج اوقاف ہے۔ اے پی گزٹ نمبر 46-A کے سیریل نمبر 17933 کے تحت مسلم قبرستان موجود ہے لیکن کھلی اراضی پر غیر مجاز قابضین کی نظریں ہیں۔ وقف بورڈ نے قبرستان کے متولی کو اپنے خرچ پر حصاربندی کی اجازت دی ہے لیکن مقامی افراد تعمیری کاموں میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے قبرستان کی اراضی کو سڑک کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے اور سیاسی دباؤ کے تحت قبرستان سے نئی سڑک تعمیر کردی گئی۔ قبرستان کو سڑک کی تعمیر کے ذریعہ غیر مجاز قبضوں کے تحت حاصل کرنے کی سازش کی گئی ہے ۔ ایک ایکر اراضی پر قبرستان کے علاوہ دینی مدرسہ قائم کیا گیا ہے اور قریب میں جامع مسجد موجود ہے۔ وقف بورڈ میں متعلقہ انسپکٹر آڈیٹر کو اراضی کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن بتایا جاتا ہے کہ وقف انسپکٹر کو اراضی کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ مقامی غیر سماجی عناصر قبرستان کی اراضی کا مکمل صفایا کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں بعض قبروں کو مسمار کیا جاچکا ہے ۔ مقامی افراد نے صدرنشین وقف بورڈ اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر سے اپیل کی ہے کہ قبرستان کا تحفظ کرنے کیلئے ضلع کلکٹر اور ایس پی کو مکتوب روانہ کریں ۔ متعلقہ پولیس کو ہدایت دی جائے کہ وہ غیر سماجی عناصر کو قبرستان کی حصار بندی کے کام میں مداخلت سے روکیں۔