سوال تو پوچھے جاتے رہیں گے : عمران پرتاپ گڑھی

   

حیدرآباد 21 نومبر (سیاست نیوز) سیاست میں سوال تو پوچھے جاتے رہیں گے اور اویسی صاحب ہویا کے سی آر انہیں جواب دینا پڑے گا کیونکہ سیاست میں عوام کی جانب سے سوال کرنا ہمارا حق ہے اور ہم اپنے حق کا استعمال کرتے رہیں گے۔ صدرنشین آل انڈیا کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ و رکن راجیہ سبھا کانگریس عمران پرتاپ گڑھی نے روزنامہ ’سیاست ‘ اور سیاست ٹی وی کو خصوصی انٹرویو میں یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ عوام میں سیاسی شعور ملک میں جمہوریت کے استحکام کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں کانگریس ووٹ کی تقسیم کی سیاست کرنے والوں کا مقابلہ کر رہی ہے اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی جماعت ملک بھر میں کانگریس کو شکست دینے اور بی جے پی کی مدد کرنے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے جو ملک میں امن و امان کے قیام اور فرقہ پرستی کے خاتمہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہورہی ہے۔ عمران پرتاپ گڑھی نے گوشہ محل سے مجلس کے امیدوار کو میدان میں نہ اتارے جانے پر مجلسی قیادت سے استفسار کیا کہ وہ تاویلات پیش کرنے کے بجائے جواب دیں کہ آخر مجلس نے کونسی حکمت عملی اختیار کی ہے کہ جس کے ذریعہ راجہ سنگھ کو شکست دی جائیگی ۔ انہوں نے بتایا کہ حلقہ پارلیمنٹ حیدرآباد میں شامل حلقہ گوشہ محل اور مجلس کے صدر دفتر دارالسلام کے حلقہ میں مجلس کے امیدوار کو میدان میں اتارتے ہوئے راجہ سنگھ کو شکست دینے سے قاصر قیادت ملک میں مودی اور یوگی کو شکست دینے کی بات کرتی ہے تو ان باتوں کو کیسے قبول کیا جائے !انہوں نے کہا کہ جب یہ سوال اٹھایاجانے لگا تو سیاسی حکمت عملی کی بات کہی جار ہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جماعت کی حکمت عملی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسد اویسی عوام کو واقف کروائیں کہ گذشتہ 10 برسوں سے یہ حکمت عملی کہاں ہے کیونکہ اس کی شکست نہیں ہوپا رہی ہے! رکن راجیہ سبھا نے کہا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس ‘ بی جے پی اور مجلس میں اتحاد کے جو الزامات عائد کئے جار ہے ہیں وہ قطعی طور پر بے بنیاد نہیں ہیں یہ سوال اٹھائے جانے لگے ہیں اور ان سوالات کا جواب دینا ایک سیاسی قائد کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بی آر ایس قائدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس قائدین اقتدار کے نشہ میں اس قدر چور ہوچکے ہیں کہ ان کی زبان پر کوئی لگام نہیں رہی اور نہ ہی وہ بولنے سے قبل سونچ رہے ہیں کہ وہ کیا بولنے لگے ہیں۔ عمران پرتاپ گڑھی نے بتایا کہ کانگریس ریاست میں واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار حاصل کرے گی اور کسی بھی جماعت کی تائید حاصل نہیں کرے گی جو کہ راست یا بالواسطہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے حق میں کرناٹک عوام نے جس طرح فیصلہ دیا ہے اسی طرح سے تلنگانہ کے نتائج بھی سب کیلئے حیران کن ثابت ہوں گے اور کانگریس بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کریگی۔ عمران پرتاپ گڑھی نے تلنگانہ انتخابات کے علاوہ دیگر 4ریاستوں میں انتخابات ملک میں 2024 عام انتخابات کا سیمی فائنل ہیں ۔ انہوں نے جنوبی ہند میں بی جے پی کے صفائے کیلئے عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ جنوبی ہند کے عوام نے ملک کی دیگر ریاستوں کو پیغام دیا کہ ہندستانی سیاست میں کوئی شخصیت ناقابل تسخیر نہیں ہے۔ انہوں نے اسد اویسی کے راہول گاندھی کو حیدرآباد سے مقابلہ کے چیالنج کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی اسد اویسی کو راہول گاندھی سے مقابلہ میں دلچسپی ہے تو وہ حیدرآباد کے بجائے امیتھی یا وائیناڈ سے مقابلہ کرلیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں جو نوجوان نسل پروان چڑھ رہی ہے وہ سیاستدانوں سے سوال کرنا جانتی ہے۔ انہوں نے بابری مسجد سانحہ پر مجلس کے کانگریس پر عائد الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجلسی قائدین کانگریس کی خاموشی نہ چھیڑیں کیونکہ کانگریس قائدین بھی جانتے ہیں کہ ’بابری مسجد ‘ سانحہ سے پہلے کیا کچھ ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ بابری مسجد سانحہ کے بعد بھی کئی برسوں تک مجلس یو پی اے I اور یو پی اے II کا حصہ رہی اور مرحوم صدر مجلس سلطان صلاح الدین اویسی جو ایک دوراندیش سیاستداں تھے وہ ہمیشہ کانگریس کے ساتھ رہے ہیں لیکن اب مجلس ہندو توا طاقتوں کی آلۂ کار بن چکی ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں اورکانگریس کے حق میں ووٹ کا استعمال کرکے کانگریس کے تمام امیدواروں کو کامیاب کریں ۔ انہو ںنے بتایا کہ اقتدار کی تبدیلی اقلیتوں کے 90 فیصد مسائل کا حل ثابت ہوتی ہے اسی لئے حکومت اقتدار میں آنے کے بعد کیا کرے گی یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب اپنوں کی حکومت آجاتی ہے تو فضاؤں میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔