Wednesday , July 1 2020

سوشل میڈیا کا مثبت و حوصلہ افزاء استعمال ضروری

کورونا وباء کے پس منظر میںناسازی صحت اور انتقال کی اطلاعات کا انداز بدلنا ہوگا

حیدرآباد : سوشل میڈیا کا منفی خبروں کی ترسیل کے بجائے مثبت فکر کے فروغ کیلئے استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے ۔ فیس بک اور واٹس اپ کے ذریعہ ناسازی صحت اور انتقال کی خبروں کی ترسیل شہریوں میں اختلاج کا سبب بننے لگی ہیں ۔ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران شہر حیدرآباد میں ہونے والی اموات میں ریکارڈ کیا جانے والا اضافہ اوران کی اطلاعات کو جس انداز میں سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلایا جارہا ہے وہ عوام میں خوف پیدا کرنے کا موجب بن رہا ہے اور کمزور دل حضرات اختلاجکی کیفیت کا شکار ہونے لگے ہیں ۔ اخبارات میں انتقال کی خبروں میں جو اضافہ ہو اہے وہ بھی تشویشناک بنتا جارہا ہے لیکن سوشل میڈیا پر جس تیزی سے ناسازی صحت ، دعاؤں کی اپیل اور انتقال کی خبریں گشت کررہی ہیں انہیںدیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اب سوشل میڈیا پلیٹ فارس کے متعلق عوام کو متنبہ کیا جائے اور کہا جائے کہ کمزور دل حضرات سوشل میڈیا کے استعمال میں تخفیف کریں ۔ سوشل میڈیا پر موجود افراد جو بکثرت اس کا استعمال کرتے ہیں وہ ان منفی خبروں کے بجائے مثبت اور حوصلہ افزاء خبروں کی ترسیل کو یقینی بنائیں تو عوام کی حوصلہ افزائی ہوگی کیونکہ شہر میں سنجیدہ شہری اور وہ لوگ جو وباء سے احتیاط کی غرض سے گھروں میں بند ہیں انہیں یہ منفی خبریں مزید خوفزدہ کرنے لگی ہیں ۔ دونوں شہروں میں جس انداز سے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جارہا ہے وہ عوام میں موجود خوف میں اضافہ کا باعث بننے لگا ہے ۔ اگر سوشل میڈیا کے استعمال کرنے والوں کی جانب سے عوام میں شعور بیداری کیلئے کوشش کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں خوف کے بجائے شعور بیدار ہوگا اور سوشل میڈیا کا صحیح استعمال تصور کیا جائے گا ۔ انتقال کی اطلاع ، دعائے صحت کی اپیل کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن جس رفتار سے یہ خبریں پھیل رہی ہیں وہ کمزور دل حضرات کیلئے خطرات میں اضافہ کا سبب بننے لگا ہے ۔اسی لئے محتاط انداز میں سوشل میڈیا کا استعمال مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتاہے ۔ اموات کی معمول سے زیادہ اطلاعات کمزور دل افراد کی صحت پر مضر اثرات کا سبب بن سکتی ہیں ۔ اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ کوئی کمزور دل ہو یا بیمار ہو تو اسے قریبی افراد کا انتقال بسا اوقات تو قریبی رشتہ دار کے انتقال کی بھی اطلاع نہیںدی جاتی ہے ۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹ پر بھی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT