سوشیل میڈیا پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے پیام

   

اکثریتی برادری کی جانب سے مسلمانوں کے دفاع کی تاریخ کو متاثر کن طریقہ پیش کیا جارہا ہے
حیدرآباد۔یکم۔ اکٹوبر(سیاست نیوز) سوشل میڈیا پر جہاں نفرت کا بازار گرم کیا جا رہاہے وہیں چند ہی سہی لیکن ملک کی سالمیت اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے متمنی ہیں ان کی جانب سے ایسی پوسٹ کی جارہی ہیں کہ ملک میں خوف کا شکار محسوس کرنے والے اقلیتوں میں احسا س فخر ہونے لگا ہے۔سوشل میڈیا پر ملک کی اکثریتی برادری کی جانب سے مسلمانوں کے دفاع میں جو تاریخ پیش کی جا رہی ہے وہ انتہائی متاثر کن انداز میں پیش کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ہندستانی مسلمانوں کو اپنے بادشاہوں کی تاریخ پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ 750 سال کے اقتدار کے دوران ہندستان میں لاکھوں منادر جوں کی توں رہی اور ہندستان کو اکھنڈ بھارت رکھنے میں ہندستان کے مسلم حکمراں طبقہ کا اہم کردار رہا ہے اسی طرح دنیا کی بیشتر معیشتوں میں ہندستانی معیشت کو منفرد مقام حاصل رہا اور یہ اسی دور کی بات ہے جب ہندستان پر مسلم حکمراں اقتدار میں تھے۔ ہندستان دنیا کی جملہ معیشت میں اپنا 27 فیصد حصہ رکھتا تھا جو کہ انتہائی اہم ترین تھا لیکن انگریزوں کے تسلط کے دوران ملک کو تباہی کا شکار بنایا گیا اور ہندستان کی معیشت کو تباہ کرنے کے علاوہ انگریزوں نے ہی ہندستان میں تقسیم کرو اور اقتدار پررہوں کا نظریہ پیش کیا جس کے نتیجہ میں ہندستانی عوام کو منقسم کرتے ہوئے ان پر انگریز مسلط ہوتے چلے گئے اور انگریزوں کے دور میں ہندستان کی معیشت جی ڈی پی کے اعتبار سے انتہائی گراوٹ کا شکار ہوگئی ہے اور دنیا میں ہندستانی معیشت کا حصہ 4فیصد ہوکر رہ گیا ۔سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی ان پوسٹوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کو اپنے بادشاہوں کی مسخ کرتے ہوئے پیش کی جانے والی تاریخ پر شرمندہ ہونے کے بجائے حقیقی اعداد و شمار کے ساتھ تاریخ کو پیش کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ انگریزوں نے جس طرح سے تقسیم کرو اور اقتدار میں رہو کی پالیسی اختیار کی تھی آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بھی وہی پالیسی اختیار کرتے ہوئے یہ تاثر پیش کیا جا رہاہے کہ برسر اقتدار جماعت ملک کے اکثریتی طبقہ کی نمائندہ جماعت ہیں اور وہ نفرت کی سیاست کو فروغ دیتے ہوئے عوامی ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہوئے ملک پر راج کرنے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان کی اس نفرت کے سبب ہی وہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ملک میں تقسیم اور نفرت کی حکمرانی چل رہی ہے۔