سوشیل ویلفیر ریزیڈنشیل سوسائٹی کے سینکڑوں طلبہ کو ایم بی بی ایس میں داخلہ یقینی

   

اقلیتی اقامتی اسکولس کے طلبہ معیاری تعلیم سے محروم ، محکمہ اقلیتی بہبود کو توجہ دینے کی ضرورت
حیدرآباد۔3نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ سوشل ویلفیر ریسڈینشل ایجوکیشنل سوسائیٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے 241 طلباء و طالبات کو جاریہ سال ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل ہونے کے امکانات ہیں جبکہ سال گذشتہ 135 طلباء و طالبات نے ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سوسائیٹی کے تحت ریاست بھر میں مجموعی اعتبار سے 268 اقامتی اسکولس وکالجس چلائے جا رہے ہیں جن میں 1لاکھ 50ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی جس انداز میں تربیت کی جا رہی ہے اگر اسی طرز پر اقلیتی بہبود کے تحت چلائے جانے والے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تربیت کے انتظامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اقلیتی طلبہ کو بھی ایم بی بی ایس میں نشستوں کے حصول میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے لیکن اقلیتی طلبہ کے لئے چلائے جانے والے اقامتی اسکولوں میں طلبہ کو اس طرح کی تربیت کی فراہمی کے کوئی انتظامات نہیں ہیں جبکہ سابق سیکریٹری سوسائیٹی مسٹر آر ایس پروین کمار نے طلبہ کیلئے اسکولی دور سے ہی ان کا نشانہ مقرر کرنے اور انہیں NEETکے علاوہ JEEاور NDAکے امتحانات کی تربیت کی فراہمی کے انتظامات کے ساتھ ساتھ انہیں آن لائن امتحانات تحریر کرنے کے طریقہ کار سے واقف کروانے اور انہیں مشق کروانے کے انتظامات کئے ہیں جس کے نتیجہ میں سال گذشتہ ایم بی بی ایس میں 135 طلبہ کو داخلہ حاصل ہوا تھا اور سینکڑوں طلبہ نے JEE میں کامیابی حاصل کی تھی اسی طرح گذشتہ دنوں سوشل ویلفیر میں زیر تعلیم ایک طالب علم نے این ڈی اے کا امتحان کامیاب کرتے ہوئے محکمہ دفاع کے عہدہ تک رسائی حاصل کرلی ہے ۔ مسٹر آر ایس پروین کمار سابق آئی پی ایس نے سوشل ویلفیر کے تحت چلائے جانے والے اسکولوں میں جو اصلاحات لائے ہیں اگر محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائے جانے والے اقامتی اسکولو ںمیں ان کی نقل کرلی جائے تو اقلیتی رہائشی اسکولوں کے معیار تعلیم کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے اور ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اس قدر قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ ان اسکولوں اور کالجس میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ہی ایم بی بی ایس ‘ جے ای ای کے علاوہ این ڈی اے کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائے جانے والے اقلیتی اقامتی اسکولوں کے طلبہ پر جو خرچ کیا جا رہاہے اتنا ہی خرچ سوشیل ویلفیر کے طلبہ پر کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود سوشیل ویلفیر کے نتائج اور اقلیتی بہبود کے نتائج میں پائے جانے والے فرق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تلنگانہ مائناریٹیز ریسڈینشل ایجوکیشنل سوسائیٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی عہدیدارو ںکو ان اسکولوں اور اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے معیار تعلیم کو بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی ہے۔ تلنگانہ سوشل ویلفیر ریسڈینشل ایجوکیشنل سوسائیٹی کے عہدیداروں کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کئے جانے والے بجٹ کا بڑا حصہ طلبہ کی تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے اور انہیں روایتی تعلیم کے ساتھ عصری اور مسابقتی علوم کے حصول کی سمت راغب کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تاکہ سوشل ویلفیر کے اسکولوں اور کالجس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کسی بھی خانگی تعلیمی ادارہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے پیچھے نہ رہیں اور سوشل ویلفیر کے عہدیدار اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ آر ایس پروین کمار نے جو اصلاحات لائے ہیں اس کے ثمرات سے یہ طلبہ استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائے جانے والے اقلیتی اقامتی اسکولوں میں معیار تعلیم میں بہتری نہ لائے جانے کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں نااہل عہدیداروں کے علاوہ ایسے افراد کی موجودگی ہے جو خود تعلیم یافتہ نہیں ہیں اور طلبہ کے تعلیمی نصاب کے انتخاب کے مجاز قرار دیئے گئے ہیں جس کے سبب اقلیتی اقامتی اسکولوں کے طلبہ حکومت کے زیر انتظام چلائے جانے والے سوشل ویلفیر اسکولس کے طلبہ کے ساتھ مسابقت کے موقف میں نہیں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں نصاب کی تیاری اورانتخاب کے طریقہ کار میں تبدیلی اور سوشل ویلفیر میں اختیار کردہ طریقہ تعلیم اور نصاب کو اختیار کئے جانے کی صورت میں اقلیتی اقامتی اسکولوں کے طلبہ کے معیار میں بھی بہتری پیدا ہوسکتی ہے ۔ حکومت بالخصوص محکمہ بہبود اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروںکو تلنگانہ سوشل ویلفیر ریسڈینشل ایجوکیشنل سوسائیٹی کے نصاب اور ان کے تعلیمی طریقہ کار کا جائزہ لینے کے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ اقلیتی طلبہ کو بھی سوشل ویلفیر کے طلبہ کے مساوی اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کئے جاسکیں۔م