سویڈن ناٹو میں شمولیت کیلئے ترکی کے سکیورٹی خدشات دور کرنے تیار

   

ہماری فوجی پالیسی عرصہ دراز سے غیرجانبدار رہی ہے اور کسی اتحاد کا حصہ نہیں رہی : اسٹولٹن برگ

اسٹاک ہوم : ترکی ناٹو میں شمولیت کے درخواست گزار سویڈن پر مشرق وسطیٰ میں کرد عسکریت پسندوں کی حمایت کا الزام لگا تا رہا ہے۔ اسی وجہ سے اسٹاک ہوم نے انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے قانون میں اب ترمیم کا عمل شروع کر دیا ہے۔ناٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے 13 مئی کو کہا کہ ناٹو کی رکنیت حاصل کرنے کی اپنی کوشش کے تحت سویڈن ترکی کے ”تحفظات دور کرنے کے لیے” تیار ہے۔ اسٹاک ہوم کی عشروں پر محیط عسکری پالیسی غیر جانبدار رہی ہے اور دفاعی نکتہ نظر سے وہ کسی بھی اتحاد کا حصہ نہیں رہا ہے۔تاہم یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں خطے کے سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے، اسی لیے فن لینڈ اور سویڈن کو بھی مجبوراً ناٹو اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ دونوں ممالک نے اس کے لیے گزشتہ ماہ درخواست بھی دی تھی۔لیکن ترکی نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ جب تک دونوں ملک انقرہ کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں نہیں کرتے اس وقت تک وہ ناٹو میں ان کی شمولیت کی مخالفت کرے گا۔ اسی رکاوٹ کے سبب دونوں ملکوں کی درخواستیں التوا کا شکار ہیں۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے دونوں ممالک پر کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے وابستہ کرد عسکریت پسندوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ ترکی اس گروپ کو دہشت گرد تصور کرتا ہے۔ سویڈن نے شام میں در اندازی کے بعد سن 2019 میں ترکی پر ہتھیاروں کی بھی پابندی عائد کر دی تھی۔انہیں وجوہات کے سبب انقرہ نے سویڈن اور فن لینڈ کی ناٹو اتحاد میں رکنیت کو ویٹو کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔ ناٹو کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے درخواستوں پر اسی صورت میں غور کیا جا سکتا ہے جب اتحاد کے تمام 30 اراکین اس سے متفق ہوں، بصورت دیگر شمولیت تو دور کی بات درخواست پر بھی غور نہیں کیا جا سکتا۔سویڈن نے ترکی کے تحفظات کے حوالے سے کیا اقدام کیے؟سویڈن کی وزیر اعظم میگڈالینا اینڈرسن نے کہا ہے کہ جب دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بات آتی ہے تو ان کا ملک ترکی کے خدشات کو ”بہت سنجیدگی سے” لیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سویڈن کے، ”عزائم یہ ہیں کہ ہم ان معاملات کو کسی بھی طرح حل کر لیں۔”ناٹو کے سکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ سویڈن نے، ”انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے قانون کو پہلے ہی سے تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ سویڈن، ”اب اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ناٹو کے رکن کے طور پر ہتھیاروں کی برآمدات سے متعلق اس کا قانونی ڈھانچہ اتحادیوں کے لیے نئے وعدوں کے ساتھ ان کی مستقبل کی حیثیت کی عکاسی کرے۔”اطلاعات کے مطابق یکم جولائی کو سویڈن کے انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون میں تبدیلی کی جائے گی۔ ادھر ہتھیار برآمد کرنے والی ملک کی خود مختار ایجنسی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ناٹو کی رکنیت کے ساتھ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے گی۔جنرل اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ ”یہ ترکی کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کو دور کرنے کے لیے دو اہم اقدامات ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ان مسائل کو جلد از جلد حل کر لیا جائے، تاکہ فن لینڈ اور سویڈن کو جلد از جلد ناٹو کے مکمل رکن کے طور پر خوش آمدید کہا جا سکے۔”