سپریم کورٹ نے تاج محل کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے کمیٹی بنانے کا مطالبہ خارج کیا

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے تاج محل کی اصل تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی قائم کرنے کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ جسٹس ایم آر شاہ کی قیادت والی بنچ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں بالکل درست کہا تھا۔ایسا لگتا ہے کہ درخواست مفاد عامہ کی بجائے تشہیر کے لیے دائر کی گئی ہے۔درخواست ڈاکٹر رجنیش سنگھ نے دائر کی تھی۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ تاج محل کی اصل تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک جانچ کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ اس کی تاریخ کے حوالے سے تنازعہ ختم ہو۔ درخواست میں کہا گیا تھاکہ اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ ممتاز محل کی یاد میں تاج محلکی تعمیر کروائی تھی۔درخواست گزار کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ سمیر سریواستو نے کہا کہ ممتاز محل کی یاد میں 1631 سے 1653 تک 22 سالوں کے دوران تاج محل کی تعمیر کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملتا ہے۔ عرضی گزار کواین سی ای آر ٹی سے آر ٹی آئی کے تحتکے موصول جواب میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا کوئی ذریعہ نہیں ہے جو یہ بتائے کہ تاج محل شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا۔ اس کے بعد عرضی گزار نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سامنے آر ٹی آئی کے تحت معلومات مانگی لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔