سکریٹریٹ کی عبادت گاہوںکی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کی جائے

   

کے سی آر سے رکن پارلیمان کنہالی کوٹی کا مطالبہ، نظام آباد کے وفد کی ایڈیشنل کلکٹر سے ملاقات

نظام آباد۔عبدالغنی ریاستی جنرل سکریٹری انڈین یونین مسلم لیگ تلنگانہ کی جانب سے رکن پارلیمان انڈین یونین مسلم لیگ وقومی جنرل سکریٹری جناب پی ۔کے ۔کنہالی کوٹی کوتلنگانہ سکریٹریٹ میں واقع دومساجداورایک مندر کومسمار کئے جانے کی اطلاع دینے پر جناب پی کے کنہالی کوٹی نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی وزیرا علیٰ جناب کے چندراشیکھررائو کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے مذکورہ عبادت گاہوںکی فوری تعمیر کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ آج جناب عبدالغنی ریاستی جنرل سکریٹری کی قیادت میں ایک وفد نے جناب بی چندراشیکھر ایڈیشنل کلکٹر سے ملاقات کرتے ہوئے ریاستی چیف منسٹر کو تحریر کردہ یادداشت حوالے کی۔ عوام اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ سکریٹریٹ کے احاطے میں دو مساجد (۱) مسجد معتمدی (۲)مسجد ہاشمی جونظام دور حکومت میں تعمیر کردہ نایاب مساجد میں شمار کی جاتی تھیںاور ہندوستانی تاریخ میں اہم شمار کی جاتی تھیں جس میں پنچ وقتہ نمازیں جاری تھیں۔چنانچہ حکومت کی جانب بغیر کسی منصوبے اور مذہبی رہنمائوںسے مشاورت کے بغیر مسجدوں اور مندر کو توڑے جانے پر عوام بالخصوص دونوںمذاہب کے افراد کو صدمہ سے دوچار ہوناپڑا۔ تلنگانہ عوام اس بات سے بھی واقف ہے کہ موجودہ دور حکومت میں مئی 2019ء؁ میں بھی سڑک کی توسیع کے نام پر عنبرپیٹ میں واقع مسجد یکخانہ کو بھی شہید کردیاگیاتھا۔ مختلف مذہبی جماعتوں اور آئی یو ایم ایل کی بارہا نمائندگی پر حکومت نے یہ تیقن دیاتھا کہ وہ دوبارہ اس مقام پر مسجد کی تعمیر عمل میںلائیں گے لیکن اب تک حکومت اس فیصلے پر عمل کرنے سے قاصر ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ کی جانب سے منصوبہ بند انداز میں مختلف مذہبی مقامات کو ڈھائے جانے کے عمل کو عوام ڈکٹیٹرشپ سے تعبیر کررہی ہے اور ریاستی وزیر اعلیٰ کو فوری اپنے طرز عمل میں تبدیلی لاتے ہوئے مذہبی مقامات سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ ریاستی حکومت ایک جانب جہاں گنگاجمنی تہذیب اور تمام مذاہب کی یکساں ترقی اور سیکولر ہونے کا دعویٰ کررہی تو دوسری طرف اس طرح کے اقدامات سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔معزز رکن پارلیمنٹ نے مزید کہاکہ تلنگانہ ریاستی حکومت نے انتخابات سے اوقاف جائیدادوں کے تحفظ کیلئے جوڈیشل اقدامات کرنے کا اعلان کیاتھا لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔مسلم لیگ اس بات کی سختی سے مذمت کرتی ہے کہ ریاستی حکومت منصوبے بند انداز سے مذہبی مقامات کو انہدام کرنے کی سازشیں رچ رہی ہے اور جمہوریت میں دیئے گئے مذہبی حقوق سے چھیڑ چھاڑ کررہی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت عوام کے بنیادی حقوق کاتحفظ کرنے میں یکسر ناکام ہوچکی ہے ۔ جناب پی کے کنہالی کوٹی رکن پارلیمان نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ سکریٹریٹ میں جہاں مذہبی عبادتگاہیں تھیں وہیں پر دوبارہ تعمیر عمل میںلائی جائے ۔اس کے علاوہ یکخانہ مسجد کو بھی فوری تعمیر کرتے ہوئے عوام کا اعتماد بحال کرے۔ اس موقع پر مسلم لیگ کے قائدین عبدالغنی ،شیخ مجاہد، ایم اے نعیم ،مرتضیٰ حسین،فاروق کے علاوہ دیگر موجود تھے۔