سکریٹریٹ کی مساجد کا بہرحال تحفظ ہوگا: وزیر داخلہ محمود علی

   

مسلمان اندیشوں کا شکار نہ ہوں، سکریٹریٹ کے احاطہ میں ملازمین کو نماز کی اجازت
حیدرآباد۔ 3 اکٹوبر (سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ سکریٹریٹ میں احاطہ میں موجود عبادت گاہوں کے بارے میں عوام کو کسی بھی اندیشے یا خدشات کی ضرورت نہیں ہے۔ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ موجودہ مساجد اور مندر برقرار رہیں گے اور انہیں موجودہ مقام پر ہی رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کے سی آر ایک سکیولر قائد ہیں اور تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے تمام مذاہب کا احترام کرتے ہوئے عید اور تہوار سرکاری طور پر منائے جارہے ہیں۔ نظام حیدرآباد نواب میر عثمان علی خاں جس طرح ہندو اور مسلمانوں کو اپنی دو آنکھ تصور کرتے تھے، اسی طرح کے سی آر نے ہندو اور مسلمانوں کو نہ صرف دو آنکھ تصور کیا بلکہ عملی طور پر اس کا ثبوت دیا۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کے پرامن ماحول کو بگاڑنے کی کوششوں کو حکومت نے سختی سے کچل دیا۔ محمود علی نے کہا کہ سکریٹریٹ میں موجود عبادت گاہوں کے مسئلہ پر سیاست کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ کیوں کہ حکومت نے نئے کامپلکس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں کی برقراری کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقام پر عالیشان مسجد برقرار رہے گی جس میں پنجوقتہ عبادت کا اہتمام کیا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے سلسلہ میں وزراء پر مشتمل کابینی سب کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ سب کمیٹی نے اپنی سفارشات حکومت کو پیش کردی ہیں جس میں عبادت گاہوں کی منتقلی کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو عبادت گاہوں کے تحفظ کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور ان کی حکومت میں عوام کو فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مساجد میں نماز کی ا جازت سے متعلق مسئلہ پر وزیر داخلہ نے کہا کہ سکریٹریٹ کی دونوں مساجد میں وہاں موجودکام کرنے والے عہدیدار و سرکاری ملازمین نماز ادا کرتے رہے ہیں۔ کبھی بھی بیرونی افراد کو سکریٹریٹ میں داخلے کی اجازت نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مساجد خصوصی طور پر اندرونی دفاتر کے ملازمین کے لیے ہیں۔ اب جبکہ تمام دفاتر سکریٹریٹ سے منتقل کردیئے گئے لہٰذا وہاں ملازمین باقی نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی محکمہ کے ملازمین منتقلی کے کام کے سلسلہ میں موجود رہیں تو وہ نماز کی ادائیگی کے لیے آزاد ہیں۔ انہوں نے مساجد کو مقفل کرنے سے متعلق اطلاعات پر کہا کہ حکومت کسی بھی عبادت گاہ کو مقفل نہیں کرے گی اور اندرونی احاطہ میں موجود ملازمین عبادت کرسکتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ چیمبر کی منتقلی کے بعد سے سکریٹریٹ نہیں گئے تاہم وہ اس سلسلہ میں عہدیداروں سے معلومات حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عمارتوں کے انہدام کے بارے میں وہ لا علم ہیں کیوں کہ وہ کابینی سب کمیٹی میں شامل نہیں ہیں۔ یہ معاملہ چوں کہ عدالت میں زیر دوران ہے لہٰذا اس پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ سکریٹریٹ کی مساجد کے بارے میں بعض گوشوں سے کی جارہی بیان بازی کا شکار نہ ہوں۔