سکندرآباد میں ملکاجگری کارپوریشن کے انضمام کی مخالفت: راجندر

   

حیدرآباد۔ 18 جنوری (سیاست نیوز) بی جے پی رکن پارلیمنٹ ایٹالہ راجندر نے ملکاجگری کارپوریشن کو سکندرآباد میں ضم کرنے سے متعلق بی آر ایس کے قائدین کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ بی آر ایس کی جانب سے علیحدہ سکندرآباد میونسپل کارپوریشن تشکیل دیتے ہوئے ملکاجگری کو ضم کرنے کی مانگ کی جارہی ہے۔ راجندر نے وضاحت کی کہ ملکاجگری کارپوریشن کے تمام کارپوریٹرس کی کا تعلق ملکاجگری ضلع سے ہے اور ان میں کوئی بھی سکندرآباد کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکاجگری لوک سبھا حلقہ ملک میں رائے دہندوں کے اعتبار سے سب سے بڑا حلقہ ہے اور میونسپل کارپوریشن سے ملکاجگری کا نام حذف کرنے کی کوئی بھی کوشش قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکندرآباد کی تاریخ اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ملکاجگری کی علیحدہ شناخت بہرصورت برقرار رہنی چاہئے۔ انہوں نے سرینواس یادو سے سوال کیا کہ بی آر ایس دور حکومت میں سکندرآباد کو علیحدہ میونسپل کارپوریشن کے طور پر تشکیل دینے کی مساعی کیوں نہیں کی گئی؟ راجندر نے بلدی ڈیویژنس کی از سر نو حد بندی میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے مجالس مقامی کے فنڈس حاصل کرنے کے لئے کانگریس حکومت کو انتخابات کے انعقاد میں عجلت ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مجالس مقامی کے چناؤ میں بی جے پی بہتر مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے گریٹر حیدرآباد اور ملکاجگری کارپوریشنوں پر بی جے پی کے قبضہ کی پیش قیاسی کی۔ 1