سکندرآباد کی ایک خاتون مسلسل چھ سال سے کوششوں کے باوجود آدھار سے محروم

   

حیدرآباد۔یکم جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) سکندرآباد کے علاقہ نریڈ میٹ کی ساکن مونیکا مرلین نے کہا کہ وہ 2013 سے آدھار کارڈ کے حصول کیلئے کئی مرتبہ کوششیں کرچکی ہیں لیکن یہ تمام بے سود ثابت ہوئی ہیں۔ پہلی مرتبہ اُس سال میں اپنے خاندان کے ساتھ پہنچی تھی لیکن یہ کہتے ہوئی میری درخواست مسترد کردی گئی تھی کہ بائیو میٹرکس کے چند مسائل ہیں۔ مرلین نے کہا کہ سب کو آدھار حاصل ہوچکے ہیں لیکن انہیں ہنوز یہ شناختی کارڈ حاصل نہیں ہوسکا ہے چنانچہ 2018 اور2019 میں دو مرتبہ وہ اس کیلئے رجوع ہوئی تھیں۔ ایک ایسے وقت جب آدھار کا حصول ایک اولین ترجیح بن چکا ہے اس قسم کی تاخیر ناقابل قبول ہے۔ متعلقہ حکام کارڈ دینے سے انکار کے طور پر تکنیکی مسائل کے بہانے بناتے ہیں جس سے عوام کو تکلیف ہورہی ہے۔