ٹی آر ایس کو 70 فیصد نشستوں پر کامیابی کا یقین، کانگریس کا میونسپلٹیز میں بہتر مظاہرہ، شہری علاقوں میں بی جے پی سرگرم
حیدرآباد 23 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بلدی انتخابات کی رائے دہی کے بعد سیاسی جماعتوں نے کامیابی کے بارے میں پارٹی سطح پر سروے کا آغاز کیا ہے۔ اہم جماعتیں ٹی آر ایس، کانگریس و بی جے پی بلدیات میں کامیابی کے دعوے کررہی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس نے خود اعتراف کیاکہ بی جے پی کو بعض کارپوریشنوں میں دوسرا مقام ملیگا۔ شہری علاقوں میں بی جے پی کی مقبولیت اور مضبوط کیڈر کا فائدہ کارپوریشنوں کی نشستوں پر ہوسکتا ہے۔ اِسی دوران ٹی آر ایس نے رائے دہی کے فوری بعد پارٹی قائدین کی ضلع واری رپورٹس کی بنیاد پر جو اندازے قائم کئے ہیں اُس کے مطابق کارپو ریشنوں اور میونسپلٹیز دونوں میں 70 تا 80 فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ٹی آر ایس کی جانب سے تیار سروے میں کارپوریشنوں میں بی جے پی کو دوسرا مقام دیا گیا ہے۔ جبکہ میونسپلٹیز میں کانگریس کو دوسرا مقام حاصل ہوگا۔ ٹی آر ایس سروے کے مطابق مجموعی طور پر میونسپلٹیز و کارپوریشنوں میں پارٹی 52.3 فیصد ووٹ حاصل کرے گی۔ ایک اور سروے میں 48 فیصد ووٹ کا اندازہ قائم کیا گیا ہے۔ کانگریس کو 25 تا 28 فیصد ، بی جے پی کو 18 تا 20 فیصد ووٹ حاصل ہوسکتے ہیں۔ مجلس کو 1.6 تا 2 فیصد جبکہ دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو 6.7 فیصد ووٹ حاصل ہونے کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ 9 کارپوریشنوں میں ٹی آر ایس کو 180 تا 200 وارڈس پر کامیابی کا امکان ہے جبکہ کانگریس کو سروے میں 60 تا 80 وارڈس پر کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی۔ شہری علاقوں میں بی جے پی کے مضبوط کیڈر کے نتیجہ میں وہ 80 سے زائد وارڈس پر کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ ٹی آر ایس کے سروے میں مجلس کو 8 تا 10 وارڈس پر کامیابی کا اندازہ قائم کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران بھینسہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجہ میں بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے نظام آباد، عادل آباد اور کریم نگر میں رائے دہندوں کو مذہبی بنیادوں پر منقسم کرنے اور ہندو ووٹ متحد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تلنگانہ کے واحد بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے ذریعہ مہم چلائی گئی۔ اس کے علاوہ مرکزی مملکتی وزیرداخلہ کشن ریڈی نے بھی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ 120 میونسپلٹیز میں ٹی آر ایس کو 2000 وارڈس پر کامیابی کا اندازہ ہے۔ جبکہ کانگریس تقریباً 500 وارڈس پر قبضہ کرسکتی ہے۔ بی جے پی کے لئے 180 وارڈس جبکہ مجلس کو 25 وارڈس پر کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی۔ ٹی آر ایس ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اگزٹ پول پر پابندی عائد کی گئی جس کے نتیجہ میں پارٹی نے خانگی اداروں اور میڈیا گھرانوں سے رائے دہی کا رجحان حاصل کیا۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی بلدی چناؤ میں بہتر مظاہرہ کے بارے میں پُرامید ہے۔ پارٹی قائدین اور کیڈر کی مہم اور مساعی سے زیادہ پارٹی کو ٹی آر ایس کے داخلی اختلافات اور عوام میں پائی جانے والی ناراضگی پر زیادہ انحصار ہے۔ کئی اضلاع میں ٹی آر ایس میں اختلافات کھل کر منظر عام پر آگئے۔ خاص طور پر کانگریس سے انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کے علاقوں میں ٹی آر ایس قائدین مہم کے دوران خاموش رہے جس کا راست فائدہ کانگریس کو ہوسکتا ہے۔ رائے شماری 25 جنوری کو مقرر ہے۔