تقررات ‘ اسکالرشپس و فیس ری ایمبرسمنٹ اہمیت کے حامل ۔ ایس آئی او کا اسٹوڈنٹ منشور
حیدرآباد 14 نومبر ( سیاست نیوز ) اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن ( ایس آئی او ) نے تلنگانہ اسمبلی انتخابات 2023 کیلئے اسٹوڈنٹس منشور جاری کیا ہے اور سیاسی جماعتوں سے تعلیم کے شعبہ کو مستحکم بنانے کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے ۔ ایس آئی او کی جانب سے جاری کردہ طلبا منشور میں کہا گیا کہ حکومت سے تعلیم کیلئے انتہائی معمولی بجٹ دیا جاتا ہے ۔ اس میں اضافہ ہونا چاہئے ۔ چونکہ تلنگانہ نئی ریاست ہے ایسے میں ریاست میں شعبہ تعلیم کا جائزہ لینے ایک کمیشن تشکیل دیا جانا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اقلیتی اقامتی اسکولس جو قائم کئے گئے ہیں وہ کرایہ کی عمارتوں میں کام کر رہے ہیں اور ان کا کسی سب پلان کے تحت احاطہ نہیں ہے ۔ اس کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ منشور میں کہا گیا کہ ریاستی یونیورسٹیز میں کئی تدریسی عہدے تقرر طلب ہیں۔ اس سے تعلیم متاثر ہو رہی ہے ۔ اس جانب بھی سیاسی جماعتوں کو توجہ کرنے اور تقررات عمل میں لانے کی ضرورت ہے ۔ منشور میں کہا گیا کہ سرکاری اسکولس و کالجس میں بھی اساتذہ کی قلت ہے اور انتظامی امور بھی درست نہیں ہیں ۔ ایسے میں اس صورتحا لکو بہتر بنانے کیلئے موثر اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے ۔ منشور میں کہا گیا کہ منا اورو ۔ منا بڈی اسکیم پر بھی موثر عمل نہیں ہو رہا ہے ۔ کچھ اسکولس میں اس کے نتائج صرف 10 تا 15 فیصد ہیں جبکہ کچھ اسکولس میں یہ اسکیم شروع بھی نہیں ہوئی ہے ۔ ریاست کے ڈائیٹ کالجس میں بھی اساتذہ اور انفرا اسٹرکچ کی قلت ہے ۔ حکومت نے ڈی ایس سی کے ذریعہ 13 ہزار سے زائد جائیدادوں پر تقررات کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا ہے ۔ انٹرمیڈیٹ تعلیم میں بھی اقامتی جونئیر کالجس میں داخلے کم ہو رہے ہیں۔ اس پر بھی توجہ ضروری ہے ۔ اعلی تعلیم کے شعبہ میں بھی کئی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ اسکالرشپس اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم تعطل کا شکار ہے ۔ پوسٹ میٹرک اسکالرشپس کی اجرائی میں تاخیر ہوئی ہے اور پری میٹرک اسکالرشپس کو مرکز نے اچانک روک دیا ہے ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے جس سے طلبا مشکل صورتال کا شکار ہیں۔ کالجس میں اسنادات وغیرہ روک دئے جا رہے ہیں جس سے طلبا کا مستقبل اور تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ تمام جماعتوں کو ان امور پر غور کرتے ہوئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔