سیاسی سرپرستی کے بغیر عوام اپنے حق کیلئے امڈ پڑے

,

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد ، 4 جنوری (سیاست نیوز) متنازعہ اور متعصبانہ شہریت ترمیمی قانون (CAA)، معلنہ نیشنل پاپولیشن آف رجسٹر (NPR) اور مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (NRC) کے خلاف آخرکار شہر حیدرآباد نے بھی آج ہفتہ کو یہاں لوور ٹینک بنڈ سے قریب دھرنا چوک پر عظیم الشان احتجاج کے ذریعے اپنا نام ہندوستان میں کے متعدد شہروں کی فہرست میں درج کرالیا ہے جہاں تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے مقابل مسلمانوں کی آبادی کم ہے لیکن وہ گزشتہ بیس دنوں میں سب سے پہلے زبردست احتجاج ہوچکے ہیں اور مسلسل ہورہے ہیں۔ آج کے ملین مارچ کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ اسے کوئی سیاسی سرپرستی حاصل نہیں رہی اور سارے حیدرآباد بالخصوص پرانا شہر سے عوام جوق در جوق احتجاجی مارچ میں شریک ہوئے۔ ایک اندازہ کے مطابق ملین مارچ واقعتاً ملین (10 لاکھ) احتجاجیوں کا مارچ ثابت ہوا۔ عوام اپنی سیاسی وابستگی یا تائید و حمایت سے قطع نظر اپنے حقوق کیلئے گھروں سے نکل آئے اور کئی کیلومیٹر تک پیدل چلتے ہوئے ملین مارچ میں حصہ لیا۔ کیرالا میں پی وجین کی حکومت نے سی اے اے کی مخالفت میں اسمبلی میں قرارداد منظور کرائی ہے۔ مغربی بنگال میں چیف منسٹر ممتا بنرجی نے سب سے پہلے سڑکوں پر احتجاج کی متواتر دو روز قیادت کی۔ کئی دیگر ریاستوں جیسے راجستھان، مدھیہ پردیش، پنجاب وغیرہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ معلنہ این پی آر اور مجوزہ این آر سی پر اپنی اپنی ریاست میں عمل درآمد نہیں کرائیں گے کیونکہ یہ ایک خاص برادری (مسلم کمیونٹی) کے خلاف تعصب پر مبنی ہے۔ تقریباً بیس روز قبل جب سی اے اے منظور ہوا تب ہی سی مظاہرے شروع ہوگئے لیکن حیدرآباد اور تلنگانہ میں مجلس اور برسراقتدار ٹی آر ایس کی وجہ سے دارالحکومت کے عوام پس و پیش میں تھے کہ آخر احتجاج کس طرح کیا جائے۔ آخرکار جب صدر مجلس اسد اویسی اور چیف منسٹر کے چندرشیکھر کو معقول وقت دیتے ہوئے حجت تمام ہوگئی تو حیدرآباد کی غیرسیاسی تنظیم ’’تحریک مسلم شبان‘‘ کے مشتاق ملک آگے آئے اور انھوں نے پولیس سے ملین مارچ کی اجازت طلب کی۔ بتایا جاتا ہے کہ نہ ٹی آر ایس حیدرآباد میں سی اے اے؍ این پی آر؍ این آر سی کی مخالفت بڑے پیمانے پر احتجاج چاہتی ہے اور نہ ہی یہ مجلسی قیادت کے مفاد میں ہے۔ چنانچہ دونوں نے ملین مارچ کے اہتمام میں بھرپور رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششیں کئے۔ چنانچہ منتظمین کو ہائیکورٹ سے رجوع ہونا پڑا اور عدالت نے ملین مارچ کی اجازت دے دی۔ تب طے ہوا کہ نئے شہر حیدرآباد کی نمایاں علامت ٹینک بینڈ پر ملین مارچ کا اہتمام کیا گیا۔ لیکن چند گھنٹے قبل ملین مارچ کا مقام ٹینک بنڈ سے تقریباً ایک کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع دھرنا چوک اندرا پارک کو منتقل کردیا گیا۔ ملین مارچ کے مخالفین نے جب عدالت سے احتجاج کی اجازت مل گئی تو آخری حربہ کے طور پر اتنا کیا کہ ملین مارچ کو ٹینک بنڈ جیسے نمایاں مقام پر منعقد نہ ہونے دیا جائے۔ ایسی گھٹیا چالوں سے خود چیف منسٹر کے سی آر اور صدر مجلس اسد اویسی بے نقاب ہوگئے ہیں۔ تقریباً دو ہفتے قبل صدر مجلس نے حیدرآباد کی لگ بھگ 35 نمائندہ شخصیتوں کو پرگتی بھون لے جاکر چیف منسٹر سے سی اے اے؍ این پی آر؍ این آر سی کو مسترد کردینے کیلئے نمائندگی کی تھی اور پورے وفد نے کے سی آر سے اپیل کی تھی کہ مغربی بنگال ، کیرالا اور دیگر ریاستوں کی طرح اعلان کیا جائے کہ متنازعہ قانون ، معلنہ این پی آر اور مجوزہ این آر سی کو تلنگانہ میں لاگو نہیں کیا جائے گا۔ لیکن دل میں کچھ زبان پر کچھ رکھنے والے کے سی آر نے دو دن کا وقت مانگا اور وفد کے قائد صدر مجلس طویل میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں بہت مطمئن نظر آئے۔ لیکن جب دو نہیں چار دن بلکہ ایک ہفتے سے زائد ہوگیا تو صدر مجلس نے چیف منسٹر سے دوبارہ کوئی نمائندگی نہیں کی اور نہ نام نہاد مجلسی ’’شیر‘‘ قائدین کو سڑکوں پر آکر عوام کے ساتھ احتجاج کرنے کی توفیق ہوئی۔