سیاسی قائدین کے ظلم و زیادتیوں پر لگام لگانے ماوسٹ کمربستہ

   


عوامی تحریک دوبارہ سرگرم، سیاسی پارٹیاں خوف کا شکار، پولیس کی سخت چوکسی

حیدرآباد ۔ 3 ستمبر (سیاست نیوز) سماج میں انصاف پچھڑے ہوئے ناانصافی، حق تلفی، ظلم و زیادتی، سرکاری و سیاسی سازشوں کا شکار بے سہارا عوام کیلئے ایک امید کی کرن کی سابقہ شناخت رکھنے والے نکسلائیٹ ماوسٹ کیا پھر سرگرم ہونے لگے ہیں۔ مرکزی تحقیقاتی و سراغ رساں ایجنسیوں کی مانے تو یہ بات درست دکھائی دیتی ہے اور ریاست تلنگانہ میں گذشتہ چند عرصہ سے پیش آنے والے واقعات کا اگر مختصر جائزہ لیں تو اس بات سے انکار کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ماوسٹ اب اپنے وجود کا احساس دلانے میں جٹ گئے ہیں۔ ایک عرصہ دراز تک گوشہ گمنامی میں رہنے والی ماوسٹ تحریک جو ایک دور میں عوامی تحریک کی شناخت رکھتی تھی، اب دوبارہ سرگرم ہوگئے ہیں۔ ماوسٹوں کی سرگرمیوں سے جہاں ایک طرف پولیس میں تشویش پائی جاتی ہے تو دوسری طرف سیاسی قائدین میں خوف و ہراسانی پیدا ہوگئی ہے۔ ہمیشہ ہی ماوسٹوں کے نشانہ پر رہنے والے ظالم سیاستداں ہوں یا پھر بدعنوان، سرکاری عہدیدار ہر دور میں انہیں ماوسٹوں سے مسئلہ ہی رہا ہے۔ جکومت کی عوام مخالف پالیسیوں، فرقہ پرستی، سامراجیت اور آمریت کے خلاف ہمیشہ صف آراء ماوسٹ تنظیم تلنگانہ میں دوبارہ سرگرم ہورہی ہے۔ اپنے وجود کا احساس دلانے میں جٹی ماوسٹ تنظیم کے تعلق سے مرکزی ایجنسیوں نے ریاست کو چوکنا کیا اور انتباہ دیا تھا کہ ماوسٹ اپنا خوف جتانے کیلئے پرتشدد کارروائیوں کو انجام دے سکتے ہیں۔ متحدہ اضلاع ورنگل، کھمم، کریم نگر اور عادل آباد میں ماوسٹوں کی سرگرمیوں کا آغاز عملاً ہوچکا ہے۔ سابقہ چیف منسٹر آندھراپردیش راج شیکھر ریڈی کے دورحکومت میں بڑے نقصانات کا سامنا کرنے کے بعد تشکیل تلنگانہ کی تحریک اور ریاست کی تشکیل کے بعد عملاً ماوسٹوں کا ریاست سے خاتمہ تصور کیا جانے لگا تھا۔ متحدہ اضلاع کریم نگر، ورنگل، عادل آباد اور کھمم میں ماوسٹوں کی سرگرمیوں سے سیاسی لیڈروں بالخصوص بی جے پی اور ٹی آر ایس کے قائدین خوف کا شکار ہوگئے ہیں اور خفیہ سرویس کے نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کے علاوہ محاذی تنظیموں اور ہمدردوں کو نظر میں رکھتے ہوئے ان سے خفیہ مدد حاصل کرنے کا ماوسٹوں پر شبہ پایا جاتا ہے۔ سیاسی قائدین کے ظلم و زیادتیوں پر لگام لگانے اور انہیں قابومیں رکھنے کیلئے ماوسٹ اپنی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں تو دوسری طرف پولیس کی جانب سے سخت چوکسی اختیار کی جارہی ہے اور اضلاع میں پولیس نے اپنے نٹ ورک کو متحرک کردیا ہے۔ گذشتہ دنوں بھدراچلم کے سپرنٹنڈنٹ پولیس نے ماوسٹوں کے اعلیٰ قائدین پر مشتمل پوسٹرس جاری کرتے ہوئے ان پر عائد انعامات کی رقم میں 4 گنا اضافہ کتے ہوئے ان کا پتہ بتانے اور سرگرمیوں کی اطلاع دینے والوں کو انعام کے طور پر مقرر رقم 5 لاکھ سے 20 لاکھ روپئے تک اضافہ کردیا۔ متحدہ اضلاع کریم نگر، ورنگل، کھمم اور عادل آباد کے جنگلاتی اور ایجنسی علاقوں میں ماوسٹوں کی سرگرمیاں ایک نئی سیاسی بحث کا آغاز کرچکی ہیں۔ ان سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اضلاع سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین کو چوکس رہنے اور بغیر پولیس کی اجازت اور علم میں لائے بغیر کسی بھی پروگرام میں شرکت سے منع کردیا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں اچانک سرگرم ماوسٹوں کے متعلق مکمل تفصیلی رپورٹ پولیس کی جانب سے تیار کی جارہی ہے اور پولیس نے ان علاقوں میں خصوصی پولیس فورس کی گشت میں اضافہ کردیا ہے۔ع