سیاہ قوانین کے خلاف احتجاج پر ہزار سے زائد مقدمات

   

عوام اور خواتین کے احتجاج سے مجلس خوفزدہ ، شیخ عبداللہ سہیل
حیدرآباد /5 فروری ( سیاست نیوز ) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل نے مجلس کے دباؤ میں سیاہ قوانین کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہرے کرنے والے مظاہرین کے خلاف شہر حیدرآباد کے بشمول ریاست کے مختلف مقامات پر 1000 سے زائد مقدمات درج کرنے کا الزام عائد کیا ۔ ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون این آر سی اور این پی آر کے خلاف سارے ملک میں احتجاج ہو رہا ہے ۔ جس کا سلسلہ حیدرآباد اور تلنگانہ کے اضلاع میں بھی جاری ہے ۔ بغیر کسی تشدد کے عوام پرامن احتجاج کرتے ہوئے دستور نے جو حقوق دئے ہیں اس سے بھرپور استفادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ مجلس اس احتجاج میں عوام بالخصوص نوجوانوں اور خواتین کی بھاری تعداد میں شرکت سے خوفزدہ ہے اور عوام کی آواز کو دبانے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے ۔ یہاں تک کہ برقعہ پوش خواتین کے خلاف بھی مقدمات درج کئے جارہے ہیں ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہاکہ ایک طرف چیف منسٹر کے سی آر شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کر رہے ہیں دوسری طرف سیاہ قوانین کے خلاف ہونے والے پرامن احتجاج کو کچلنے کیلئے پولیس کی طاقت کا استعمال کر رہے ہیں ۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت سے سوال کیا کہ وہ دہلی کے شاہین باغ احتجاج کے طرز پر احتجاج کرنے کی کیوں اجازت نہیں دے رہی ہے ۔ عوام پرامن اور مسلسل احتجاج کرتے ہوئے سیاہ قانون سے دستبرداری اختیار کرنے کیلئے مرکز کو مجبور کرنا چاہتے ہیں مگر مقامی پولیس سی اے اے کے خلاف چلائے جانے والے احتجاج کو اجازت دینے سے انکار کر رہی ہے ۔ یہ سب مجلس کے دباؤ پر ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صدر مجلس اسدالدین اویسی کو اپنا سیاسی کیرئیر خطرے میں لگ رہا ہے ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ جے اے سی کی 40 تنظیموں نے کانگریس کی تائید سے کامیاب ملنیم مارچ کا اہتمام کیا جس سے مجلس کی قیادت بوکھلاٹ کا شکار ہوگئی ہے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ مخالف سیاہ قوانین کے احتجاج سے تلنگانہ حکومت اور مجلس کی قیادت دونوں خوفزدہ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اس طرح کے احتجاجی دھرنے مستقبل میں 12 فیصد مسلم تحفظات اور وقف بورڈ کو جوڈیشل پاور دینے کیلئے بھی ہوسکتے ہیں ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسدالدین ٹیوٹر پر سرگرم رہتے ہوئے حکومت کے ترقیاتی پروگرامس کی جھوٹی تشہیر پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہیں تاہم سیاہ قوانین کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف جو مقدمات درج ہو رہے ہیں ۔ اس پر اعتراض کرنے اپنایا اپنے پارٹی کے موقف کو ظاہر کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی ہے ۔ بھینسہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد کئی معصوم مسلم نوجوانوں کے خلاف پولیس نے جھوٹے مقدمات درج کردئے ۔ مگر اسدالدین اویسی نے تلنگانہ حکومت کے خلاف کوئی ریمارک نہیں کیا ۔