ای وی ایمس کی بھی شدید مخالفت ضروری ، متحدہ کاروان ہی کامیابی کی ضمانت:عامر علی خاں
سی اے اے کے پیچھے آر ایس ایس کی سازش : داس رام نائیک
موجودہ صورتحال سے نمٹنے دوست اور دشمن کو پہچاننا ضروری : حسین شہید
سی اے اے ، این آر سی صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں : بہوجن قائد
محبوب نگر میں جلسہ سے مختلف قائدین کا خطاب
محبوب نگر ۔ 8 ۔ فروری : ( ایم اے مجیب / ایم اے حلیم امجد کی رپورٹ ) : سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف پورے ملک میں آج جو لڑائی جاری ہے وہ 1947 ء کی لڑائی کی یاد تازہ کررہی ہے ۔ کیوں کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ ساری قوم اور سارے ملک کا ہے ۔ جمہوریت کے تحفظ اور سیکولرازم کی بقاء کا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست حیدرآباد نے جمعہ کی شب مستقر محبوب نگر کے ایس ایم گارڈن فنکشن ہال میں بحیثیت مہمان خصوصی ایک سمینار کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ سمینار کی صدارت داسورام نائک نے کی ۔ جناب عامر علی خاں نے مزید کہا کہ ملک میں 130 کروڑ میں سے 40 کروڑ عوام تو ایسے ہیں جو یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہوئے زندگی گذار رہے ہیں ۔ ان کے لیے این آر سی یا این پی آر کے مطلوبہ ڈاکومنٹس کا حصول کیسے ممکن ہے ؟ اگر 20 کروڑ مسلمان بھی ڈیٹینشن سنٹر جاتے ہیں تو ان کے ساتھ دیگر 40 لاکھ بھی جائیں گے ۔ کیوں کہ ان کے پاس بھی مطلوبہ ڈاکومنٹس نہیں ہیں اور ان ڈاکومنٹس کا حصول ان لوگوں کے لیے مشکل نہیں ناممکن ہے ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے آسام کے خاندانوں کا حوالہ دیا کہ آسام کے لوگ ڈاکیومنٹس کے حصول کے لیے دفتروں کے چکر کاٹتے کاٹتے ہر خاندان 50 ہزار روپئے کا مقروض ہوچکا ہے اور آج رشوت خوروں کا بازار گرم ہے ۔ آج مرکز کی بی جے پی حکومت 5 کروڑ مسلمانوں کے لیے 30 لاکھ کروڑ ڈینٹیشن سنٹرز پر خرچ کرنے تیار ہے ۔ جب کہ ملک میں بڑھتی بے روزگاری سے کروڑوں نوجوان اپنے مستقبل کو لے کر کافی فکر مند ہیں ۔ ملک میں معاشی بحران ہے ۔ سالانہ ایک کروڑ نوجوان بے روزگار ہورہے ہیں ۔ مینو فیکچرنگ سیکٹر کی شرح 2.7 تک گر چکی ہے ۔ انہوں نے مرکز کے منصوبہ اور اس کی چال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ڈینٹیشن سنٹرز اور پسماندہ طبقات کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی خطرناک سازش ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کانگریس کا ووٹ بینک ہے ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس کی بھی شدت سے مخالفت کرنا ہے کیوں کہ کئی حلقہ جات ایسے ہیں جہاں ووٹرس کی جملہ تعداد سے زیادہ ووٹس پول ہوئے ہیں اور بی جے پی کو مرکز میں اقتدار دلانے میں ای وی ایمس کا اہم رول رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے قانون کے تحت پڑوسی ممالک افغانستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش سے آنے والے ہندوؤں کو ہی شہریت دی جائے گی ۔ آج اس کے خلاف بلاتکان مسلسل احتجاج کی ضرورت ہے ۔ اور ہمارا یہ متحدہ کاروان ہی کامیابی کی ضمانت ہے ۔ داس رام نائک سابق زیڈ پی ٹی سی نے این آر سی کا خیر مقدم کرنے کا اعلان کیا ۔ لیکن اس کا طریقہ کار بھی متعین کیا کہ این آر سی ڈی این اے کی بنیاد پر ہوگا ۔ انہوں نے تالیوں کی گونج میں کہا کہ اسلام میں مساوات اور انسانیت کا درس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے کی منظوری میں کانگریس آنکھ مچولی کھیل رہی ہے ۔ رافیل گھوٹالہ معاملہ میں کانگریس اپوزیشن نے 8 دن تک پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے نہیں دی تو پھر آج کے اس سیاہ قانون کے خلاف وہ موقف کیوں نہیں اپنایا ؟ انہوں نے اس سازش کا اصل ذمہ دار آر ایس ایس کو ٹہرایا اور کہا کہ موہن بھاگوت فلم کے ڈائرکٹر ہیں اور مودی اور امیت شاہ پردے پر ہیرو ہیں ۔ ہمیں اصل لڑائی ڈائرکٹر کے خلاف لڑنا ہے جناب حسین شہید نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے چشم بصیرت کا ہونا ضروری ہے ۔ ہمیں دوست اور دشمن کو پہچاننا ہوگا ۔ 1871 ء میں انگریزوں نے پہلی مردم شماری کروائی تھی ۔ ایس سی ، ایس ٹی ، او بی سی جو کہ آبادی کا 85 فیصد حصہ تھے 4000 ذاتوں میں تقسیم کیا گیا ۔ مولانا نے کہا کہ آر ایس ایس نے ملک بھر میں 65 ہزار فسادات کروائے اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل نفرت والی مہم چلاتی رہی ۔ آج کا این آر سی بھی اسی کا ایجنڈا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امبیڈکر نے جب دستور بنایا تو انہیں اندازہ تھا کہ یہ دستور انسانیت کا درد رکھنے والوں کے ہاتھ میں جائے گا تو ملک جنت ہوگا اور متعصب لوگوں کے ہاتھ میں جائے گا تو ملک مقتل بن جائے گا ۔ ای آر او ہل بہوجن کرانتی مورچہ قائد نے جو مہاراشٹرا سے بحیثیت مہمان خصوصی شریک تھے کہا کہ آج کا میڈیا 3797 چیانلس اور 5 ہزار سے زائد اخبارات مرکز کی بی جے پی حکومت کے تحت ہے اور یہ پورا میڈیا سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کو مسلمانوں کا مسئلہ بتاتے ہوئے ملک کے عوام میں غلط فہمی پیدا کررہا ہے ۔ آسام میں 19 لاکھ 48 ہزار لوگوں کی این آر سی میں شناخت ہوئی جن میں 14 لاکھ 48 ہزار غیر مسلم تھے اورمسلمان صرف 5 لاکھ تو پھر مسلمانوںکا مسئلہ کیسے ہوا ۔ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ کانگریس ، ایس پی ، اور کمیونسٹوں پر بھی تنقید کی کہ لوک سبھا میں بی جے پی کو اکثریت تھی راجیہ سبھا میں نہیں تھی ان جماعتوں کے ارکان نے واک آوٹ کر کے بی جے پی کاراستہ صاف کردیا ۔ اس موقع پر سمینار کے کنوینر حنیف احمد ، صدر ضلع کانگریس عبید اللہ کوتوال ، یس ایم خلیل ، شیخ شجاعت علی ، حاجی سلیم ، مزرا قدوس بیگ صادق اللہ کے علاوہ سیاسی و سماجی تنظیموں کے قائدین موجود تھے ۔۔