سیلاب کی تباہی کے باوجود جی ایچ ایم سی انتخابات کی تیاریاں

,

   

حکومت جنوری میں انعقاد کی حامی ، پولنگ اسٹیشنوں کو قطعیت دینے ہفتہ کو اجلاس

حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتحابات مقررہ وقت پر منعقد کرنے حکومت اور الیکشن کمیشن نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ سیلاب تباہ کاریوں کے بعد اندیشہ تھا کہ بلدی انتخابات کو ملتوی کیا جاسکتا ہے لیکن الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ کی تیاری کا عمل شروع کرکے اشارہ دیا کہ انتخابات جنوری کے دوسرے یا تیسرے ہفتہ میں ہونگے۔ باخبر ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقوں میں راحت اور امدادی کاموں میں حکومت نے الیکشن کمیشن سے موقف جاننے کی کوشش کی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ راحت اور امدادی کاموں کو انتخابی ضابطہ اخلاق سے متثنیٰ قرار دینے اپیل کی گئی ہے تاکہ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے باوجود متاثرین میں امدادی کام جاری رکھے جائیں۔ حکومت شہر میں نومبر و ڈسمبر کے درمیان بعض نئے ترقیاتی پراجکٹس کے آغاز کا منصوبہ رکھتی ہے۔ فہرست رائے دہندگان کی تیاری کا کام 13 نومبر کو مکمل ہوجائے گا جس کے بعد الیکشن کمیشن انتخابی اعلامیہ جاری کرسکتا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر اور درخواست گزاروں میں تقسیم کا عمل جاری ہے ، بتایا جاتا ہے کہ ڈسمبر تک ڈبل بیڈروم مکانات تمام اہل درخواست گزاروں میں تقسیم کردیئے جائیں گے ۔ ضابطہ اخلاق کے بعد مکانات کی حوالگی ممکن نہیں ہے ۔ اطلاعات کے مطابق وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے چیف منسٹر کے سی آر کو صورتحال سے آگاہ کیا ۔ قانون کے مطابق اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل کی تکمیل کیلئے 14 دن درکار ہونگے ۔ حکومت و ٹی آر ایس اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ انتخابی اعلامیہ ڈسمبر کے اواخر یا پھر جنوری میں جاری کیا جائے ۔ نئی کارپوریشن کی تشکیل 12 فروری سے قبل کی جانی ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں گزشتہ انتخابات کے موقع پر رائے دہندوں کی تعداد 74 لاکھ سے زائد تھی ۔ مجوزہ انتخابات میں رائے دہندوں کی تعداد میں اضافہ یقینی ہے، لہذا الیکشن کمیشن کو پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑیگا۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پولنگ اسٹیشنوں کے تعین کیلئے 7 نومبر کو اجلاس طلب کیا ہے ۔ کورونا قواعد کے پیش نظر پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹرس کی تعداد کو کم رکھا جائے گا ۔ 2016 ء میں ای وی ایم سے رائے دہی ہوئی تھی جبکہ اس بار بیالٹ پیپر سے رائے دہی کا فیصلہ کیا گیا۔ 80 لاکھ بیالٹ پیپر شائع کئے جارہے ہیں جبکہ 25,000 سے زائد بیالٹ باکس کو تیار رکھا گیا ہے ۔ 2002 کے انتخابات میں بیالٹ پیپر کے ذریعہ رائے دہی ہوئی تھی ، اس وقت بلدی وارڈس کی تعداد 100 تھی ۔