اسلام آباد : ملک بھر میں مانسون کی ریکارڈ بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ متاثر ہوگیا ہے۔ان علاقوں میں موجود رہائشی بُری طرح متاثر ہوئے ہیں، زندہ بچ جانے والے متاثرین اب کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ جہاں ان متاثرین کو رہنے، کھانے پینے، رہائش، طبی اور تحفظ جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے وہیں یہ متاثرین فضاء میں شامل مختلف تعفّن سے بھی پریشان ہیں۔یہ تعفّن سیلاب کے باعث تباہ ہونے والی فصلوں میں لگی گلی سڑی سبزیوں، پرانے خراب شدہ کھانوں، کچرے سمیت سیکڑوں لوگوں اور مویشیوں کے جمع شدہ اخراج سے اُٹھ رہا ہے۔ملکی اور غیر ملکی ایجنسیز کی رپورٹس میں متاثرین کے تلخ تجربات شائع کیے جارہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سیلاب کے باعث خیموں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ایک خاتون زیب النساء بی بی کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے پاس بیت الخلاء کی سہولت نہیں ہے نہ ہم کہیں نہاسکتے ہیں، دو ہفتوں قبل ہمارے گاؤں میں سیلاب آیا تھا، تب سے ہی خیمے میں رہ رہے ہیں اور جب سے صفائی کیلئے کوئی مناسب سہولت میسر نہیں ہے‘‘۔سیلاب زدگان کیلئے لگائے گئے خیموں کے کیمپ ملک کے جنوب اور مغرب میں پھیل چکے ہیں، رقبے کے اعتبار سے یہ برطانیہ کے برابر ہیں اور 33 ملین متاثرین نے ان میں رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔ان کیمپس میں بیت الخلاء کی عدم دستیابی کے باعث کئی وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے، بالخصوص متاثرہ خواتین کو صحت کے مسائل کا سنگین خطرہ لاحق ہے۔ان خیموں میں دیہاتی متاثرین رہائش پذیر ہیں جن کی خواتین پردے کا خاص خیال رکھتی ہیں، لیکن خیموں کی کمی کے باعث ان میں ایک سے زائد خاندان ایک ساتھ رہ رہے جس کے سبب خواتین ہروقت غیر مردوں کے درمیان رہنے پر مجبور ہیں۔زیب النساء بی بی کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں پردے میں رہنے کی عادت تھی، لیکن اب اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہم بے پردہ رہنے پر مجبور ہیں‘‘۔شمیم بی بی نامی ایک اور خاتون نے بھی ایسے ہی تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اپنی بچیوں کو کہاں بھیجیں؟ کب تک برداشت کریں، ضرورت پڑنے پر جھاڑیوں میں جانا ہی پڑتا ہے لیکن تب ہر وقت یہ ہی خوف رہتا ہے کہ کوئی مرد دیکھ نہ لے‘‘۔انسانی و جانوروں کے فضلے سے ہوا میں ناقابل برداشت تعفن اُٹھ رہا ہے، دوسری جانب گندگی کے باعث مکھی اور مچھروں کا افزائشی عمل تیز ہوگیا ہے جس سے متاثرین مختلف وبائی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔