نئی دہلی : مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی نے اسد اویسی کی مجلس اتحادالمسلمین کا وقفہ وقفہ سے ملک کے مختلف حصوں میں انتخابی فوائد کے لئے استعمال کیا ہے جو اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ 2015 ء کے بہار اسمبلی الیکشن میں اُس ریاست کے مسلم اکثریتی خطہ سیمانچل میں مجلس نے ’ووٹ کٹوا‘ پارٹی کا رول ادا کرتے ہوئے کئی جگہوں پر سیکولر امیدواروں کی شکست کا سامان کیا تھا۔ اِس مرتبہ بی جے پی اور اُس کی حلیف نتیش کمار کی جے ڈی یو اپنے 2015 ء کے تجربہ کو دوہرارہے ہیں۔’نیشنل ہیرالڈ‘ کے مطابق مختلف انتخابی مبصرین و سیاسی قائدین جیسے ایس بی بھاسکر، ایم اے کاظمی اور محمد موسیٰ (کانگریس) نے تفصیلی تجزیہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کے طول و ارض میں کئی اپوزیشن قائدین اور پارٹیوں کو مرکز نے مختلف سرکاری ایجنسیوں کا نشانہ بنایا لیکن مجلس کو معنی خیز چھوٹ حاصل ہے۔