حیدرآباد ۔ /25 اکٹوبر (سیاست نیوز) سینٹ پیٹرس ہائی اسکول ، بوئن پلی میں کل ایک ماڈل یو این کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ ماڈل یو این کانفرنس کے اس سیکنڈ ایڈیشن میں 200 سے زائد طلبہ نے حصہ لیا جنہوں نے 25 ممالک بشمول امریکہ ، روس ، چین ، ہندوستان ، پاکستان اور ترکی کی نمائندگی کرنے والے مندوبین کا رول ادا کیا ۔ مسٹر ٹی الفونس ریڈی ، کرسپانڈنٹ سینٹ پیٹرس ہائی اسکول نے آج یہاں ایک پریس نوٹ میں یہ بات بتائی ۔ معروف ماہر تعلیم اور ماہر ماحولیات پروفیسر کے پرشوتم ریڈی اس ایونٹ کے مہمان خصوصی تھے اور ٹی بال ریڈی چیرمین سینٹ پیٹرس گروپ آف انسٹی ٹیوشنس نے اس کانفرنس کے اختتامی سیشن کی صدارت کی ۔ اس ماڈل یو این کانفرنس میں تین مختلف سیشنس ہوئے ۔ جنرل اسمبلی میٹنگ ، یونیسکو میٹنگ اور فوڈ اینڈ اگریکلچر آرگنائزیشن (FAI) میٹنگ ، چار گھنٹے طویل اس ماڈل یو این کانفرنس کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی پروفیسر پرشوتم ریڈی نے کہا کہ عالمی حدت ایک حقیقت ہے ۔ موسمی تبدیلی سے عوام اور ممالک کے لئے تباہی کا سامان ہورہا ہے ۔ انہوں نے حکومت ہند پر زور دیا کہ فوری طور پر کلائمیٹ ایمرجنسی کا اعلان کیا جائے ۔ حکومت ہند کیلئے وقت کا تقاضا ہے کہ موسمی تبدیلی کے منفی اثرات کے ازالہ کے لئے جنگی خطوط پر صحیح اقدامات کرے ۔