سی این این کیلئے برقعہ میں رپورٹنگ۔ خود کلیریسا کی وضاحت

   

نیویارک : امریکہ کے نشریاتی ادارہ ’سی این این‘ سے وابستہ خاتون رپورٹر کلیریسا وارڈ کی کابل میں رپورٹنگ کے دوران دو مختلف تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جس پر یہ بحث جاری ہے کہ طالبان کے قبضے کے بعد خاتون رپورٹر کا لباس بھی بدل گیا ہے۔کلیریسا کی ایک تصویر اس وقت کی تھی جب وہ 15 اگست کو کابل میں ایک کمپاؤنڈ کے اندر سے رپورٹنگ کر رہی تھیں اور اس وقت تک طالبان افغان دارالحکومت میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ دوسری تصویر 16 اگست کی ہے جس میں خاتون رپورٹر کو برقعہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب طالبان ملک پر قابض ہو چکے تھے اور صدر اشرف غنی ملک چھوڑ گئے تھے۔خبر رساں ادارہ اسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق خاتون رپورٹر کی ان دونوں تصاویر کو بعض سوشل میڈیا صارفین ایک ساتھ شیئر کر کے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ طالبان کے قبضے سے پہلے اور بعد کی صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔تاہم خاتون رپورٹر کو خود میدان میں آنا پڑا اور انہوں نے اپنی تصویر کے دونوں رخ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دونوں تصاویر کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پہلی تصویر (برقعہ والی) ایک پرائیویٹ کمپاونڈ کی ہے جبکہ دوسری تصویر کابل میں اس وقت کی ہے جب وہ افغانستان میں ایک شاہراہ پر رپورٹنگ کر رہی تھیں۔ کلیریسا نے وضاحت کی کہ وہ ماضی میں بھی جب کابل کی سڑکوں پر رپورٹنگ کے لیے نکلتی تھیں تو سر ڈھانپ لیتی تھیں ،البتہ برقعہ نہیں پہنتی تھیں۔