سی اے اے، این آر سی کیخلاف سی پی آئی کی متحدہ جدوجہد کا فیصلہ

   

بی جے پی حکومت کیخلاف بائیں بازو کی جماعتیں کمربستہ، شہریت ہر کسی کا پیدائشی حق
حیدرآباد 18 فروری (سیاست نیوز) ملک میں بی جے پی کی اجارہ داری کے خلاف بائیں بازو نے کمر باندھ لی ہے۔ آپسی نظریات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بائیں بازو کی تمام تنظیموں نے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف متحدہ جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ حیدرآباد میں 23 مارچ کو بڑا جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بائیں بازو کے متحدہ محاذ نے کہاکہ مرکز میں زیراقتدار بی جے پی نے اپنی بقاء کے لئے متنازعہ قانون کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بائیں بازو اس بات کو قبول نہیں کرتی۔ متنازعہ قانون کے خلاف متحدہ جدوجہد کا فیصلہ سی پی آئی کے ریاستی ہیڈکوارٹر مخدوم بھون میں منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا۔ یہ بات سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے بتائی۔ حمایت نگر میں منعقدہ اس اجلاس کو ’’ہم بھارتی ہیں اور شہریت ہمارا پیدائشی حق ہے‘‘ کے نعرہ پر منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں بائیں بازو کی تنظیموں سی پی آئی سے چاڈا وینکٹ ریڈی، سید عزیز پاشاہ، ڈاکٹر سدھاکر سی پی آئی، سے ٹی ویرا بھدرم، ، سی پی آئی ایم ایل نیو ڈیموکریسی سارنینی وینکٹیشور راؤ اور مسٹر گوردھن اروتودیا سے ویملا اکا، صدر تلنگانہ جماعت اسلامی ہند حامد محمد خان نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر چاڈا وینکٹ ریڈی نے کہاکہ اندرا پارک دھرنا کو حاصل کرنے کے لئے جس طرح کوشش کی گئی تھی اب سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا جائے گا اور کامیابی تک جدوجہد جاری رہے گی۔ اُنھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے عوام کے حق میں چلائی جارہی تحریکوں میں ایم آئی ایم پارٹی شامل نہیں ہورہی ہے۔ اُنھوں نے بی جے پی کو ہندو مذہبی پارٹی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایم آئی ایم بھی اس نظریہ پر چل رہی ہے۔ تاہم اُنھوں نے کہاکہ کسی کے شامل ہونے یا نہ ہونے سے تحریک کو فرق نہیں پڑھتا بلکہ تحریک مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔