سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج پر زور

   

عوام کو مذہب کے نام پر تقسیم کی کوشش ، کیپٹن پانڈو رنگاریڈی کا انٹرویو
حیدرآباد ۔ 19 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : سماجی جہدکار ، محقق اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی شدت سے وکالت کرنے والے کیپٹن ( ریٹائرڈ ) ایل پانڈو رنگاریڈی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور شہریت ترمیمی بل شہریت ترمیمی قانون کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کو تقسیم کرنے والا بل اور قانون قرار دیا ۔ ڈاکٹر پانڈو رنگاریڈی نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ پر بھی سخت تنقید کی ان کے خیال میں مودی حکومت اپنے عجیب و غریب اقدامات کے ذریعہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، بھائی چارگی کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے ۔ روزنامہ سیاست اور سیاست ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ کیپٹن پانڈو رنگاریڈی نے سال 2013 میں عثمانیہ یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد میں پی ایچ ڈی کی ڈگری قبول کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ یونیورسٹی کے علامتی نشان میں ’ نور علیٰ نور ‘ اور پیغمبر اسلام کی حدیث پاک کو نکالدیا گیا جس پر وہ بطور احتجاج ڈاکٹریٹ کی ڈگری قبول نہیں کریں گے ۔ کیپٹن پانڈو رنگاریڈی کے مطابق عوام کو بلالحاظ مذہب و ملت CAA اور NRC کے خلاف پرامن احتجاج کرنا چاہئے اور صدر جمہوریہ سے لے کر حکومت ہند کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس آف انڈیا کو مکتوبات روانہ کرتے ہوئے یہ بتانا چاہئے کہ اس طرح کے بلز ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔ کیپٹن پانڈو رنگاریڈی نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں فرقہ پرستی کوایک سازش کے تحت ہوا دی جارہی ہے ۔ عوام کو مذہب کے نام پر تقسیم کیا جارہا ہے ۔ ملک کے لیے عظیم قربانیوں کے نذرانے پیش کرنے والے مجاہدین آزادی کو صرف اس لیے نظر انداز کیا جارہا ہے کیوں کہ وہ مسلمان تھے ۔ انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال کے لیے وزیراعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ آسام میں این آر سی پر عمل کیا گیا اور لاکھوں غریب ہندوستانیوں کے نام حذف کردئیے گئے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ جنہیں دن میں ایک وقت کا کھانا بھی بڑی مشکل سے میسر ہوتا ہے کس طرح اپنے یہاں دستاویزات رکھیں گے ۔ کیسے وہ جائیدادوں کے حامل ہوں گے ۔ حکومت کو این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون پر عمل آوری کی بجائے فی الوقت ہندوستان میں جو بھی ہیں انہیں ہندوستان کا شہری سمجھا جائے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں کیپٹن پانڈو رنگاریڈی جنہوں نے آسام میں بھی خدمات انجام دی ہے بتایا کہ ایک دہے قبل جو ہندوستان تھا اب وہ بدل چکا ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ یہ بی جے پی اور مودی کا آخری اقتدار ہے ۔ اس کے بعد بی جے پی اور مودی اقتدار پر آنے والے نہیں ہیں ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ ان کی عمر 76 برس ہے آئندہ چار برسوں میں وہ بقید حیات رہیں گے بھی یا نہیں اس کے باوجود انہیں یقین ہے کہ مودی حکومت دوبارہ نہیں آئے گی ۔۔