این آر سی ، این پی آر پر بھی عمل آوری نہ کرنے کی اپیل ، ہندوستان کے کروڑہا عوام کی آواز سننا ضروری
پاناجی ۔ /9 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) گوا اور دمن کے آرچ بشپ ریو فلپی نیری فرارو میں مرکز کی مودی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری اور غیرمشروط طور پر شہریت ترمیمی قانون کو واپس لے لے ۔ کیونکہ یہ قانون انتشار پسندانہ اور امتیازی سلوک برتنے کا حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو اپنی مرضی سے رہنے کا حق دینا چاہئیے ۔ ان کے بیان پر بی جے پی نے شدید تنقید کی ۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ ملک بھر میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر ( این پی آر) کو روبہ عمل نہ لائے ۔ تاہم گوا کے بی جے پی جنرل سکریٹری نریندر ساویکر نے سوال اٹھایا کہ آخر آرچ بشپ سی اے اے کی مخالفت کیوں کررہے ہیں ۔ جبکہ کروڑوں عوام جن میں گوا کے شہری بھی شامل ہے اس نئے قانون کی تائید کررہے ہیں ۔ گوا چرچ کے ایک گروپ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آرچ بشپ اور گوا کی کتھولک کمیونٹی حکومت سے یہ اپیل کرے گی کہ وہ ہندوستان میں کروڑہا عوام کی آواز کو سنیں اور شہریوں سے مرضی کے مطابق رہنے کا حق نہ چھین لے ۔ انہوں نے سی اے اے کو شہریوں کے ساتھ امتیاز برتنے والا قانون قرار دیا اور کہا کہ اس قانون سے صرف پسماندہ اور پچھلے طبقات ہی راست شکار ہوں گے ۔ ہمارے ملک کی ہمہ تہذیبی جمہوریت بھی تباہ ہوجائے گی ۔ ملک بھر میں سی اے اے کیخلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہورہا ہے ۔ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اگر اس قانون کو روکا نہیں گیا تو ملک میں انارکی پیدا ہوگی ۔ ملک کے اہم شہریوں خاص کر دانشوروں اور قانون دانوں نے سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف واضح موقف اختیار کیا ہے ۔ ان حضرات نے ان قوانین کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور انہیں ملک کے مستقبل کیلئے خطرناک قرار دیا ۔ گوا میں بھی اس قانون کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں ۔ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں رہنے والا عیسائی طبقہ پرامن اور محبت و اخوت رکھنے والا طبقہ ہے ۔