سی اے اے کے خلاف کرناٹک جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا احتجاج

   

بنگلور کے عیدگاہ قدوس صاحب پرآج جلسہ اور مظاہرہ ، ذمہ داروں ، ائمہ کو شرکت کی ہدایت
بنگلورو۔ 22 ڈسمبر (سیاست نیوز) متنازعہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف بنگلور میں 23 ڈسمبر کو 11 بجے دن عیدگاہ قدوس صاحب پر احتجاجی پروگرام منظم کیا جائے گا۔ دارالعلوم سبیل الرشاد میں جمعہ کو بعد مغرب مولانا صغیر احمد رشادی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کرناٹک کی طرف سے منظم کئے جانے والے احتجاج کے سلسلے میں ضروری ہدایات جاری کی گئیں جن کے مطابق 23 ڈسمبر کو 11 بجے دن بنگلور کی عیدگاہ قدوس صاحب سے احتجاجی پروگرام شروع ہوگا۔ بنگلور کی تمام مرکزی مساجد کے ذمہ داروں، علماء کو وقت سے پہلے عیدگاہ پہونچنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ احتجاجی پروگرام میں شرکت کرنے والوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بالخصوص ملازمین پولیس کے ساتھ دوستانہ سلوک اختیار کریں۔ راستہ میں کسی قسم کی نعرہ بازی یا ہنگامہ آرائی نہ کی جائے۔ جلسہ گاہ میں جہاں بھی جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جانے کیلئے کہا گیا ہے۔ منتظمین نے کہا ہے کہ یہ جلسہ اور احتجاجی پروگرام پرامن طریقہ سے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور عہد کیا گیا کہ کرناٹک کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس وقت تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی جب تک حکومت اس قانون کو واپس نہیں لے گی۔ مساجد کے ذمہ داروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کم سے کم 5 یا 6 والینٹرس کو ساتھ لائیں اور اپنے ساتھ قومی پرچم رکھیں۔ جلسہ گاہ میں جب قومی ترانہ پڑھا جائے گا تو بطور احترام نشستوں سے اُٹھ کر کھڑے ہوجائیں۔ جلسہ گاہ میں ڈسپلین بنائے رکھیں۔