شادی ودیگر تقاریب اضلاع میں کورونا کیسوں میں اضافہ کی اہم وجہ

,

   

ایک ماہ کے دوران شہر اور اضلاع میں بے شمار تقاریب، سماجی دوری اور احتیاطی تدابیر نظرانداز
حیدرآباد۔ کورونا کا پھیلاؤ ابتداء میں حیدرآباد میں زیادہ محسوس کیا گیا تھا لیکن گذشتہ ماہ سے گریٹر حیدرآباد کے مقابلہ اضلاع میں کورونا کیسس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دیہی علاقوں میں کورونا کے واقعات میں اضافہ کی اہم وجہ احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کرنا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ حیدرآباد اور بڑے شہروں میں کورونا سے بچاؤ کیلئے ماسک، سینٹائزرکا استعمال اور سماجی فاصلہ کی برقراری پر توجہ دی جارہی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں عوام کو احتیاطی تدابیر کے بارے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ حکومت نے شعور بیداری کیلئے شہری علاقوں پر توجہ مبذول کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اضلاع میں مختلف تقاریب اور سماجی طور پر عوام کے اکٹھا ہونے کے نتیجہ میں وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ ہوا ہے۔ شہر میں تقاریب کے دوران مدعوئین کی تعداد محدود ہوتی ہے لیکن اضلاع میں اس کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا جس کے نتیجہ میں پازیٹیو کیسس میں اضافہ کا رجحان ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے ضلع حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ دیہی علاقوں میں عوام کو احتیاطی تدابیر کے بارے میں واقف کرائیں۔ دیہی علاقوں میں شادیوں، آخری رسومات اور اس طرح کے دیگر مواقع پر جہاں کہیں عوام کا ہجوم دیکھا گیا وہاں کورونا کے کیسس زائد درج کئے گئے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے علاوہ 5 اضلاع کورونا سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں 5000 سے زائد کیس در کئے گئے۔ رنگاریڈی اور میڑچل میں کیسس کی تعداد 20,000 سے زائد ہے جبکہ کریم نگر میں 6000 اور کھمم اور نظام آباد میں 5000 تک کیس درج کئے جاچکے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا گیا

اور دیہی علاقوں میں عوام نے بیرونی افراد کے داخلے کی اجازت نہیں دی۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کورونا کے ایسے مریض جن میں کوئی علامات نہیں ہیں وہ کھلے عام گھومنے لگے اور بسوں و دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعہ ان کی آمدورفت کے نتیجہ میں وائرس باآسانی دوسروں تک پھیل گیا۔ ورنگل، سوریا پیٹ، کھمم، محبوب نگر اور سدی پیٹ میں بھی اسی طرح کی صورتحال کے نتیجہ میں وائرس کا پھیلاؤ درج کیا گیا ہے۔ ابتداء میں شہر سے آنے والوں کا دیہاتوں میں داخلہ بند تھا لیکن جیسے ہی دیہاتوں میں شہری عوام کو داخلہ کی اجازت دی گئی اور احتیاطی تدابیر کے بجائے تقاریب کا انعقاد عمل میں آنے لگا کورونا نے اپنے پیر پھیلادیئے۔ شادی، برتھ ڈے اور دیگر تقاریب کے دوران کورونا کے پھیلاؤ کی اطلاعات ملی ہیں۔ جنگاؤں ضلع میں گذشتہ دس دنوں کے دوران شادی کی تقاریب سے تقریباً 53 افراد متاثر ہوئے۔ سدی پیٹ میں تقاریب کے نتیجہ میں 72 افراد متاثر ہوئے ہیں اور دوباک کے رکن اسمبلی ایک تقریب میں شرکت کے بعد کورونا سے متاثر ہوئے اور رام لنگا ریڈی کی موت واقع ہوئی۔ جگتیال میں شادی کی تقاریب سے 62 افراد کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ورنگل ( اربن ) میں احتیاطی تدابیر سے انحراف کے نتیجہ میں کیسس کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ نظام آباد، کاماریڈی اور دیگر اضلاع میں کیسوں میں اضافہ کی وجہ سماجی اور دیگر تقاریب ہیں۔ جولائی اور اگسٹ کے دوران اچھے دنوں کے نظریہ کے تحت بے شمار شادیاں انجام دی گئیں۔ تقاریب میں کورونا سے متاثرہ افراد کی آمد دوسروں کو تیزی سے متاثر کرسکتی ہے۔