شاستری پورم میں سو کروڑ کی جائیداد پر قبضہ جات برخاست

,

   

پانچ زیر تعمیر عمارتیں منہدم ، 6500 مربع گز پارک کی اراضی کے تحفظ کے لیے حیڈرا کی کارروائی

حیدرآباد۔یکم۔اپریل (سیاست نیوز) سرکاری اثاثہ جات کے تحفظ کے لئے قائم کئے گئے ادارہ ’حیڈرا‘نے شاستری پورم کے علاقہ میں دوسری بڑی کاروائی کرتے ہوئے زائد از 100 کروڑ کی جائیداد پر کئے گئے قبضہ جات کو برخواست کردیا۔ ’حیڈرا‘نے 31 مارچ اور یکم اپریل کی درمیانی شب علی الصبح کی گئی کاروائی میں 5 زیر تعمیر عمارتوں کو مکمل طور پر منہدم کردیا جبکہ 2 عمارتیں جن میں لوگ مقیم ہیں انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔ شاستری پورم سے متصل علاقہ میں موجود تاریخی ’بم رکن الدولہ ‘ پر کئے جانے والے قبضہ جات کو ’حیڈرا‘نے 10 اگسٹ 2024 کو برخواست کردیا تھا اور اس وقت کی گئی انہدامی کاروائی کے دوران پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی اور ایک رکن قانون ساز کونسل کی زیر تعمیر جائیدادوں کو بھی مکمل طور پر منہدم کردیا گیا تھا اور اس کاروائی کے بعد اسی علاقہ میں گذشتہ شب کی گئی یہ دوسری بڑی کاروائی ہے جو کہ رات کے اندھیرے میں کئی گئی ہے۔ شاستری پورم علاقہ میں ’کھیل کے میدان‘ کے لئے مختص کی گئی 6500 مربع گز اراضی کو ناجائز طریقہ سے فروخت کردیئے جانے کے سلسلہ میں متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد کی گئی اس کاروائی کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ جن لوگوں نے اس جائیداد کو فروخت کیا ہے انہیں سیاسی پشت پناہی حاصل ہے اسی لئے جن لوگوں نے یہ جائیدادیں خریدی تھیں وہ کسی سے بھی شکایت کرنے کے موقف میں نہیں ہیں حالانکہ وہ صریح دھوکہ دہی کا شکار ہوئے ہیں اور اپنے کروڑہاروپئے کے سرمایہ سے راتوں رات محروم ہوچکے ہیں۔ حیدرا کی اس کاروائی پر علاقہ میں مکمل سکوت طاری ہے کیونکہ’حیڈرا‘نے واضح کیا ہے کہ مقامی عوام کی جانب سے کی جانے والی شکایات کی بنیاد پر ہی یہ کاروائی انجام دی گئی ہے اور شہر کے کسی بھی علاقہ میں پارک‘ پلے گراؤنڈ‘ سرکاری اراضی ‘ فٹ پاتھ ‘ یا سڑک وغیرہ پر قبضہ جات کی شکایات پر ’حیڈرا‘کاروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ’حیڈرا‘کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات میں کہاگیا ہے کہ شاستری پورم کے علاقہ میں کی گئی کاروائی کے دوران 6500 مربع گز اراضی جو کہ مجموعی طور پر 1.5 ایکڑ ہوتی ہے اسے واپس حاصل کرتے ہوئے اس کی حد بندی کردی گئی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ مذکورہ اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں گذشتہ دو برسوں سے اقدامات کئے جا رہے تھے اور اس اراضی پر کی جانے والی تعمیرات کو روکنے کے سلسلہ میں زبانی احکام بھی جاری کئے گئے تھے اور 2024 میں اس اراضی کے تخلیہ کی بھی زبانی ہدایت دی جاچکی تھی لیکن ا س کے باوجود تعمیری سرگرمیاں جاری رہنے کی شکایات کے بعد ’حیڈرا‘نے بڑے پیمانے پر کاروائی کرتے ہوئے تمام زیر تعمیر عمارتوں کو مکمل طور پر منہدم کردیا۔ بتایاجاتاہے کہ اس اراضی پر جملہ 5 تین منزلہ عمارتیں موجود تھیں جن کی تعمیرات کا سلسلہ جاری تھا ۔بتایاجاتاہے کہ ’حیدرآباد اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی‘ کے ذریعہ منظورہ 188 ایکڑ کے اس لے آؤٹ میں جہاں 6500 مربع گز اراضی کو پارک اور میدان کے لئے چھوڑا گیا تھا اسے غیر مجاز طور پر فروخت کردیا گیا تھا ۔ حیدرا کے عہدیداروں کا کہناہے کہ اراضی کے متعلق تفصیلات کا علم ہونے کے باوجود مقامی ’لینڈگرابرس‘ نے نوٹری کے دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے گذشتہ 3برسوں کے دوران اس اراضی کو فروخت کردیا تھا ۔شاستری پورم کے علاقہ میں ’بم رکن الدولہ ‘ اور نہر حسینی پر کئے جانے والے قبضہ جات کو برخواست کرتے ہوئے ’حیڈرا‘نے بم رکن الدولہ کے ایک حصہ کے احیاء کو یقینی بنایا تھا اور ماہ رمضان المبارک کے دوران احیاء کئے گئے حصہ کا افتتاح عمل میں لایا جاچکا ہے جبکہ مقامی عوام کی جانب سے بم رکن الدولہ کے مکمل احیاء کے سلسلہ میں بھی نمائندگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ شاستری پورم کے مکینوں نے بتایا کہ مذکورہ اراضی پر کئے جانے والے قبضہ جات کو روکنے کی کوشش کے دوران انہیں دھمکیاں دیتے ہوئے ہراساں کیا جاتا رہا حالانکہ شکایت کنندگان نے اس سلسلہ میں منتخبہ عوامی نمائندوں کو بھی واقف کروایا تھا لیکن کسی بھی طرح کی کوئی کاروائی نہیں کی گئی لیکن اس اراضی کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والے جہدکاروں نے ’حیڈرا‘کی کاروائی پر اطمینان کی سانس لی اور کہا کہ مقامی عوام کے لئے موجود کھیل کے میدان اور پارک کے لئے مختص اس اراضی کے تحفظ کے بعد اب اس علاقہ میں موجود لاکھوں عوام کے لئے ایک پارک اور کھیل کا میدان حاصل ہوگا ۔ بتایاجاتاہے کہ ’حیڈرا‘نے اس اراضی پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ذریعہ پارک کو ترقی دینے کے سلسلہ میں اقدامات کا بھی تیقن دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سال 2024 میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے ان غیر قانونی تعمیرا ت کو روکنے کے لئے نوٹس بھی جاری کی تھی اور نوٹس میں بغیر اجازت کی جانے والی ان تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود ان تعمیرات کا سلسلہ جاری تھا ۔بتایاجاتاہے کہ مذکورہ اراضی پر فوری پارک کو ترقی نہ دیئے جانے پر دوبارہ قبضہ شروع ہونے کا خدشہ مقامی عوام ظاہر کررہے ہیں۔3