دمشق: انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اطلاع دی ہے کہ شام میں ایران سے منسلک ایک فوجی تنصیب پر امریکی حملے میں 9 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔بدھ کے روزامریکہ نے مشرقی شام میں ایک تنصیب کو نشانہ بناتے ہوئے حملے شروع کیے جس کے بارے میں پینٹاگان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور اس سے وابستہ گروپ ہفتوں کے اندر دوسری بار استعمال کر رہے ہیں۔وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے دو F-15 لڑاکا طیاروں کے ذریعے کیے گئے۔ یہ کارروائی عراق اور شام میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کا جواب ہے۔سویدا گورنری میں تل قلیب اور تل المسیح کے علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں براہ راست شامی حکومتی افواج کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں فضائی دفاعی بٹالین اور ایک ریڈار بھی شامل ہے۔یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب دوسری طرف اسرائیلی فوج نے دمشق کے آس پاس کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ دارالحکومت دمشق کے آس پاس کے علاقے میں کم از کم 3 دھماکے ہوئے، اسرائیلی بمباری کے نتیجہ میں عقربا قصبے کے قرب وجوار میں ایک فوجی ہوائی اڈے کے علاقے پر بمباری میں حزب اللہ کے تین جنگجو ہلاک اور تین دوسرے نامعلوم افراد زخمی ہوگئے۔