عمان : اردن کے ولی عہد شہزادہ حسین عبداللہ ثانی نے سعودی عرب میں شہزادیوں کی سی زندگی گزارنے والی ایک ارب پتی گھرانے کی اعلی تعلیم یافتہ خاتون رجوا السیف کو اپنا جیون ساتھی بنا لیا۔شادی کی اس تقریب کو اردن اور ساری دنیا کیسوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لائیو دیکھا گیا۔ دلہن قیمتی سفید لباس میں ملبوس ، رولز رائس کی چار دروازوں کی اس لیمو زین میں ،جسے ان کی مرحومہ دادی کی مرضی سے بنوایا گیا تھا، ظہران محل پہنچی۔ جب کہ اس سے پہلے ولی اردن کے ولی عہد مکمل رسمی فوجی یونیفارم میں سونے کے دستے والی تلوار سجائے وہاں پہنچے۔ ظہران محل میں جہاں شادی کی تقریب ہوئی، 1993 کے بعد ایسی شاندار تقریب دیکھی گئی، جب ماہِ جون کے ایک ایسے ہی روشن دن شاہ عبداللہ نے ملکہ رانیا سے شادی کی تھی جو کویت میں ایک فلسطینی گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ اس سے کئی عشرے قبل، عبداللہ کے والد شاہ حسین نے اسی باغ میں اپنی دوسری اہلیہ انٹونی گارڈینر سے شادی کا بندھن باندھا تھا جو ایک برطانوی شہری تھیں اور شادی کے بعد موناالحسین کہلائیں۔ خاندان اور مہمان پھولوں اور باغات سے گھری ایک کھلی فضا میں رسم نکاح کے لیے اکٹھے ہوئے جسے اردن میں کتب الکتاب کہا جاتا ہے۔ نکاح نامہ پر دستخط ہوتے ہی فضا تالیوں سے گونج اٹھی ، کئی میل دور قدیم رومن ایمفی تھیٹر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ایک بڑی اسکرین پر دولہا اور دلہن کو ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنانے کی رسم کو دیکھ کر بے پناہ خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔