سری نگر، 23 فروری (سیاست ڈاٹ کام) کشمیری قوم کے لئے نیلسن منڈیلا بننے کا ارادہ رکھنے والے 36 سالہ سابق آئی اے ایس افسر اور جموں وکشمیر پیپلز موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر شاہ فیصل اپنی نظر بندی کے ایام قرآن مجید کی تفسیر کے مطالعے ، قانون، تاریخ اور اردو ادب و شاعری پر مبنی کتابیں پڑھنے اور نماز پنجگانہ کی پابندی سے ادائیگی میں گزار رہے ہیں۔سن 2010 بیچ کے یو پی ایس سی ٹاپر شاہ فیصل، جنہیں 14 اگست 2019 کو نئی دہلی کے ہوائی اڈے پر حراست میں لیکر سری نگر میں نظربند کیا گیا تھا، پر رواں ماہ کی 14 تاریخ کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے ) عائد کیا گیا۔ اس قانون کے تحت انہیں عدالت میں پیشی کے بغیر کم از کم تین ماہ تک قید کیا جائے گا اور اس کے بعد ان کی نظربندی میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے ۔ وہ فی الوقت یہاں ایم ایل اے ہوسٹل سب جیل میں نظربند ہیں۔انہوں نے کہا: ’شاہ فیصل دوران نظربندی نماز پنجگانہ کی پابندی سے ادائیگی، قرآن مجید کی تفسیر کے مطالعے اور کتابیں پڑھنے میں محو رہتے ہیں۔ وہ قانون، تاریخ اور اردو ادب و شاعری پر مبنی کتابیں پڑھتے ہیں۔ سب سے زیادہ انہیں جن کتابوں میں دلچسپی ہے وہ اردو ادب و شاعری ہے ۔ انہیں اردو ادب و شاعری پر غیر معمولی دسترس حاصل ہے ‘۔ان کا مزید کہنا ہے : ’وہ اپنے فیصلے پر ڈٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے امتحان ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے گزشتہ چھ ماہ کے دوران کافی تجربہ حاصل ہوا اور بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ جو کتابیں پڑھنے کا موقع کبھی نہیں ملا تھا وہ میں نے ان چھ ماہ کے دوران پڑھ لیں‘۔خدانی ذرائع کے مطابق شاہ فیصل کھانے پینے کے معاملے میں ہمیشہ سادگی اپناتے رہے ہیں اور اپنی نظربندی کے دوران اپنا وزن کم کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔شاہ فیصل کی جماعت کے ایک لیڈر نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ مقید لیڈر کو سیاست میں داخل ہونے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور وہ کشمیری قوم کے لئے نیلسن منڈیلا بننا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا: ’جب ہم ایک بار بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر ڈاکٹر مسعود احمد چوہدری سے ملے تو انہوں نے شاہ فیصل کی طرف مخاطب ہوکر کہا کہ آپ نے بہت بڑی غلطی کی، میں آپ کو پانچ سال بعد چیف سکریٹری کے عہدے پر دیکھنا چاہتا تھا۔ شاہ فیصل کا جواب تھا کہ یہ آپ کی محبت ہے ، آپ مجھے چیف سکریٹری کے عہدے پر دیکھنا چاہتے ہیں مگر میں اپنی قوم کا نیلسن منڈیلا بننا چاہتا ہوں۔