شرمیلا نے اپنی پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کا اشارہ دیا

   

کے سی آر اقتدار کا خاتمہ تلنگانہ کی حقیقی آزادی ، منی پور میں خواتین کی عصمت ریزی ’ بھارت ماتا کی ‘ توہین
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی سربراہ شرمیلا نے اپنی پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ میڈیا میں افواہیں گرم ہونے کے بعد وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کے قائدین نے شرمیلا سے ملاقات کرتے ہوئے ان افواہوں پر وضاحت طلب کی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ شرمیلا نے ان سے ملاقات کرنے والے قائدین کو بتایا کہ پلیٹ فارم کونسا بھی ہو ان کا مقصد ایک ہی ہے ۔ وائی ایس آر کی فلاحی حکمرانی ۔ انہوں نے پارٹی قائدین کو ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال سے واقف کراتے ہوئے کہا کہ وہ ہرگز نا گھبرائیے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں وہ بحیثیت دختر راج شیکھر ریڈی وعدہ کرتی ہیں ان پر بھروسہ کرنے اور ان کے والد کا احترام کرنے والوں کے ساتھ مکمل انصاف کریں گی ۔ میرے والد نے ان کا ساتھ دینے والوں سے انصاف کیا ہے ۔ میں ( شرمیلا ) بھی میرا ساتھ دینے والوں کی ہر ممکن مدد کروں گی ۔ شرمیلا نے کہا کہ کے سی آر اقتدار کا خاتمہ ہی تلنگانہ کی حقیقی آزادی ہے ۔ انگریزوں کے طرز پر کے سی آر حکمرانی کررہے ہیں ۔ انگریزوں نے ملک کو لوٹا کے سی آر تلنگانہ کو لوٹ رہے ہیں ۔ ریاست میں اسکولس سے زیادہ شراب کی دوکانات ہیں ۔ خواتین پر ظلم و ستم بڑھ گیا ۔ خواتین کا احترام ختم ہوگیا ۔ وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی سربراہ نے وزیراعظم نریندر مودی پر بھی پھوٹ ڈالو راج کرو کی پالیسی پر عمل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی پر سیاسی مفاد پرستی کے لیے مذہبی سیاست کو فروغ دینے کا دعویٰ کیا ۔ شرمیلا نے منی پور میں خواتین کی عصمت ریزی اور تشدد کے واقعات کو ’ بھارت ماتا ‘ کی توہین قرار دیا اور منی پور کے تشدد پر قابو پانے میں ناکام ہوجانے کا مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ۔۔ ن