شمیم الصباح کی تصنیف ’ یادِ ماضی ‘ ایک کھلا ہوا بستہ ‘ حیدرآبادی تہذیب و ماضی کا آئینہ

   

اردو ہال میں رسم اجراء تقریب کا انعقاد۔ ادیبوں، نقادوں ، شاعروں اور اہل قلم کا اظہار خیال
حیدرآباد۔ حیدرآباد میں جامعہ عثمانیہ کے قیام کے دوران دارالعلوم ہائی اسکول کو ترقی دے کر دارالعلوم کالج کا موقف دیا گیا تھا۔ کالج میں ریاضی کے استاد کی حیثیت سے خدمت گذار محمد عبدالجبار کے صاحبزادے رضا الجبار نے اردو افسانہ کی تاریخ میں نام روشن کیا تو ان کی صاحبزادی شمیم الصباح حسین نے مرہٹواڑہ میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے اردو مضمون نگاری کے فن کی آبیاری کی۔ حیدرآباد اور جامعہ عثمانیہ کی مایہ ناز سپوت کی تحریر کردہ کتاب ’’ یادِ ماضی۔ ایک کھلا ہوا بستہ ‘‘ کی رسم اجراء ڈاکٹر محمد غوث ڈائرکٹر ؍ سکریٹری اردو اکیڈیمی تلنگانہ نے اردو ہال حمایت نگر میں انجام دی۔ انہوں نے صدارت کے فرائض انجام دیئے اور جسٹس ای اسمعیل نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز قاری محی الدین قادری سہیل کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ مصنفہ شمیم الصباح حسین کی صاحبزادی ڈاکٹر شائستہ حسین نے استقبال کیا۔ انہوں نے اردو لکھنے والوں اور اردو کی کتابوں سے اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے والدہ محترمہ کی تدریسی اور گھریلو خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے عمدہ تربیت کی فراہمی کیلئے والد مرحوم سید شاہد حسین اور والدہ محترمہ کا شکریہ ادا کیا۔ حیدرآباد کی مستند اور نامور شاعرہ تسنیم جوہر نے مصنفہ کی خوش خلقی ، عادات و اطوار اور ہمدردنہ فطرت کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ انکی تحریروں میں وہی بانکپن اور اپنے دور کی معاشرت کی صالح جھلکیاں ہیں۔ انہوں نے مصنفہ کے کئی مضامین کے اقتباسات پیش کرکے ان کے طرزِ تحریر کی حمایت کی۔ اردو کی شاعرہ اور افسانہ نگار خاتون کشور سلطانہ نے شمیم الصباح کی تحریروں میں شامل افسانہ نگاری ، مضمون نگاری ، رپور تاژ نگاری اور سوانحی خصوصیات کی تعریف میں ان کے اسلوب اور زبان کی شگفتگی کے ساتھ ماضی کے واقعات سے استفادہ کرکے حال اور مستقبل کو سنوارنے کی تدابیر کی حمایت کی اور حیدرآباد ہی نہیں بلکہ یوروپی ممالک کی مسلمان شادیوں کی شائستگی اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ رسم و رواج کے شاہد پر مصنفہ کو مبارکباد پیش کی۔ پروفیسر مجید بیدار سابق صدر شعبہ اردو نے اردو تہذیب اور روایت کو فروغ دینے پر شمیم الصباح کو مبارکباد پیش کی ۔ جسٹس ای اسمعیل نے مصنفہ کی نثر کو مشاہداتی نثر قرار دیتے ہوئے اپنی نثر میں سلیقہ کو داخل کرنے پر مبارکباد دی جبکہ صدارتی خطاب میں ڈاکٹر محمد غوث نے واضح کیا کہ اردو کا مستقبل تابناک ہے کیونکہ پڑھا لکھا اور تدریس سے وابستہ طبقہ خود تصنیف و تالیف سے وابستہ رہے تو ان کے تجربات سے طلبہ ہی نہیں بلکہ ساری قوم استفادہ کرسکتی ہے۔ انہوں نے شمیم الصباح کے مضامین کو شہر حیدرآباد کی تہذیب کا مرصع اور ماضی کا آئینہ دکھانے والی کتاب قرار دے کر عصری معاشرہ کو ماضی کی معاشرت سے آگاہی دی ہے۔ آخر میں شمیم الصباح نے اپنے تجربات اور احساسات کو پیش کرتے ہوئے تمام شرکاء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔