شندے گروپ کی شیوسینا کے انتخابی نشان “دو تلوار اور ایک ڈھال” پر سکھ برادری کا اعتراض

   

ممبئی: ناندیڑ کی سکھ برادری نے الیکشن کمیشن کی طرف سے شیو سینا کے شندے گروپ “بالا صاحب کی شیو سینا” کو الاٹ کیے گئے انتخابی نشان “دو تلوار اور ایک ڈھال” پر اعتراض کیا ہے۔ ناندیڑ کے سچکھنڈ گردوارہ بورڈ کے سابق رکن رنجیت سنگھ کامٹھیکر نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن سے شکایت کی ہے اور اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کامٹھیکر نے ہفتہ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ “دو تلوار اور ایک ڈھال” کو انتخابی نشان کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ نشان خالصہ پنتھ کے مذہبی نشان سے ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب گرو گوبند سنگھ نے خالصہ پنتھ کی بنیاد رکھی تھی، اس وقت انہوں نے خالصہ پنتھ کو تلوار اور ڈھال دیا تھا۔ اس کی علامت کی ہر صبح و شام پوجا کی جاتی ہے۔