کانگریس امیدوار کو نوجوانوں کی تائید، حلقہ میں تعلیم اور صحت کی سہولتوں کا وعدہ
حیدرآباد۔/22 نومبر، ( سیاست نیوز) عوام کی خدمت کے جذبہ کے تحت اگر کوئی امیدوار کسی حلقہ سے مقابلہ کرتے ہوئے معمولی ووٹوں کے فرق سے دو مرتبہ شکست سے دوچار ہو تو ایسے امیدوار کے حق میں ہمدردی کی لہر پیدا ہونا فطری ہے۔ نامپلی اسمبلی حلقہ میں کانگریس امیدوار محمد فیروز خاں کی انتخابی مہم کے دوران عوام ان سے غیرمعمولی ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں۔ فیروز خاں کا تعلق نامپلی اسمبلی حلقہ سے ہے اور وہ گذشتہ 20 برسوں سے علاقہ کے مسائل اور سیاسی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ عوام کی خدمت اور ایوان اسمبلی میں غریبوں کیلئے آواز اٹھانا ان کا اولین مقصد ہے اور انہیں امید ہے کہ رائے دہندے 30 نومبر کو انہیں مایوس نہیں کریں گے۔ نامپلی اسمبلی حلقہ میں جیسے جیسے رائے دہی کی تاریخ قریب آرہی ہے فیروز خاں نے گھر گھر پہنچ کر مہم میں اضافہ کردیا ہے۔ وہ تمام طبقات سے ملاقات کرتے ہوئے یقین دلارہے ہیں کہ نامپلی کو ایک مثالی حلقہ میں تبدیل کریں گے۔ نامپلی کے سلم اور غریب بستیاں گذشتہ کئی دہوں سے مختلف مسائل کا سامنا کررہی ہیں لیکن مقامی رکن اسمبلی نے سرکاری سطح پر مسائل کے حل کیلئے کوئی مساعی نہیں کی۔ ریونت ریڈی نے جب علاقہ کی سلم بستیوں کا دورہ کیا تو وہ خود بھی یہ جان کر حیرت میں پڑ گئے کہ ڈبل بیڈ روم مکانات اور دیگر اسکیمات میں ان کی حصہ داری صفر رہی۔ الیکشن کے ساتھ ہی مجلس کے قائدین سلم بستیوں کا دورہ کرتے ہوئے معذرت اور نئے وعدے کرنے میں مصروف ہیں۔ محمد فیروز خاں کانگریس کی چھ ضمانتوں کے علاوہ اپنے 6 علحدہ تیقنات پر عمل آوری کا وعدہ کررہے ہیں تاکہ نامپلی اسمبلی حلقہ میں تعلیم، صحت اور اسپورٹس کی سہولتوں میں اضافہ ہو۔ فیروز خاں کی انتخابی مہم میں ان کی اہلیہ لیلیٰ خاں، بھائی محمد راشد خاں سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی، عثمان محمد خاں سکریٹری اور دیگر مقامی کانگریس قائدین شریک ہیں۔ نوجوانوں میں فیروز خاں کے حق میں غیر معمولی تائید دیکھی جارہی ہے اور رائے دہندوں کو یقین ہے کہ حیدرآباد میں نامپلی اسمبلی حلقہ سے تبدیلی کا آغاز ہوگا۔ فیروز خاں نے کہا کہ کانگریس کا تلنگانہ میں برسراقتدار آنا یقینی ہے اور پہلے کابینی اجلاس میں 6 ضمانتوں پر عمل آوری کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی برسوں سے نامپلی اسمبلی حلقہ کو مجلس نے محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا اور اس حلقہ میں ایک بھی اعلیٰ تعلیمی ادارہ اور حکومت کا سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی جماعت کو صرف جذباتی نعروں کے ذریعہ ووٹ حاصل کرنے کی فکر ہے۔ فیروز خاں نے سوال کیا کہ اگر مجلس نے نامپلی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے تو پھر امیدوار کو تبدیل کیوں کیا گیا۔
اگر رکن اسمبلی عوام میں مقبول ہوتے تو یقینی طور پر انہیں دوبارہ امیدوار بنایا جاتا۔ لمحہ آخر میں امیدوار کی تبدیلی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مجلسی قیادت کو شکست کا خوف ستارہا ہے۔