شہریت ترمیمی بل تاریخ ہند کا یوم سیاہ

   

مذہب کی بنیاد پر باشندوں کو تقسیم کرنے کی سازش ، حامد محمد خاں
حیدرآباد ۔ 12 ۔ دسمبر : ( راست ) : دستور ہند کی دفعہ 5 اور 11 میں بہت واضح طور پر سکونت کی بنیاد پر تمام باشندوں کو شہریت عطا کی ہے جس دن پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل (CAB) منظور ہوا وہ تاریخ ہند کا یوم سیاہ ہے جس بل کے ذریعہ مذہب کی بنیاد پر ملک کے باشندوں کے درمیان تفریق کرنے کا قانون منظور کیا گیا ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا حامد محمد خاں امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ نے کانفرنس ہال دفتر جماعت اسلامک سنٹر ، لکڑ کوٹ حیدرآباد میں سماجی ، مذہبی مسلم و غیر مسلم تنظیموں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ بی جے پی کی جانب سے پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف آج یہاں ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی غرض سے ایک اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں تعمیر ملت ، جمعیت اہل حدیث ، ایم پی جے ، عوامی مجلس عمل ، وحدت اسلامی راجیہ ادھیکار پارٹی ، ہیومن رائٹس آرگنائزیشن ، شہری فورم برائے CAB اور محتلف یونیورسٹیز کے طلباء و قائدین بھی شریک رہے ۔ جناب حامد محمد خاں نے اس موقع پر واضح کیا کہ یہ بل دستور ہند کے سراسر خلاف اور سیکولر ڈھانچہ کے مخالف ہے ۔ اگر اس بل کے خلاف جدوجہد نہیں کی گئی تو اس ملک میں مطلق العنان اور فاشسٹ طاقتوں کا بول بالا ہوگا اور عوام کے درمیان اتحاد ، تعاون اور دوستانہ تعلقات ضروری ہیں لیکن مرکزی حکومت نے اپنے ناعاقبت اندیشانہ اقدام سے ملک کے بنیادی ڈھانچہ پر ضرب لگائی ہے ۔ چنانچہ اس بل کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بناکر اس بل کو واپس لینے پر مجبور کیا جانا ضروری ہے ۔ مولانا حامد محمد خاں نے کہا کہ احتجاج کے سلسلہ میں جمعہ کے دن نماز کے موقع پر مساجد میں سیاہ بیاچس اور جھنڈیوں سے خاموش مظاہرہ کیا جائے گا اور ہفتہ کے دن گورنر تلنگانہ ، کلکٹر ، آر ڈی او اور ایم آر او کو میمورنڈم دیا جائے گا ۔ اسی طرح اتوار 15 دسمبر کو دھرنا چوک پر 10-30 بجے دن احتجاجی دھرنا اور جلسہ منعقد کیا جائے گا ۔ اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وحدت اسلامی کے صدر مولانا نصیر الدین نے کہا کہ یہ بل سراسر مخالف مسلمان بل ہے اس کے خلاف بھر پور عوامی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔ جناب اقبال احمد انجینئر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل نہ صرف مسلمانوں کی دشمنی پر مبنی ہے بلکہ انسانیت و شرافت کے بھی خلاف ہے ۔ جناب منیر الدین مجاہد نے کہاکہ بل مخالف مہم میں مسلم پرسنل لا بورڈکو بھی شامل ہونا چاہیے ۔ مولانا سید شاہ احمد سعید قادری نے اس مشترکہ لائحہ عمل کے فیصلوں کی تائید کرتے ہوئے انہیں وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ۔ مولانا آصف عمری نے کہا کہ یہ بل مسلمانوں کے مستقبل کو ختم کرنے کا باعث ہوگا ۔ جناب عمر احمد شفیق نے بل مخالف جدوجہد کو انتہائی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بل سے مسلمانوں میں خوف و اندیشے پیدا ہوگئے ہیں ۔ اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ محترمہ سندھیا سماجی جہد کار اور محترمہ وملا سیول لبرٹیز نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ یہ بل محض مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ ساری انسانیت کے خلاف ہے ۔ یہ بل فاشزم کا ایک نمونہ ہے اور ملک کے بنیادی ، سیکولر اور جمہوری ڈھانچہ کو ڈھانے والا ہے انہوں نے کہا کہ یہ بل چند بنیاد پرست افراد کی کارستانی ہے ۔ حالانکہ ملک کے ہندوؤں کی اکثریت امن اتحاد اور بھائی چارہ کی حامی ہے ۔ برسر اقتدار گروہ گوڈسے اور گوالکر کا پیرو ہے ۔ جو اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے ۔ لیکن ہم اس کو ہونے نہیں دیں گے ۔ اجلاس میں جسٹس چندرا کمار ، ڈاکٹر طلحہ فیاض الدین ، صدر ایس آئی او تلنگانہ ، جناب سلیم الہندی سکریٹری ایم پی جے تلنگانہ ، جناب ثنا اللہ خاں ، جناب خالد رسول خاں ، ڈاکٹر عبدالملک ، جناب عمر فاروق قادری اسٹوڈنٹس لیڈر مانو اور دیگر تنظیموں اور جماعتوں کے ذمہ داران کی کثیر تعداد شریک رہی ۔ جناب محمد صادق احمد سکریٹری جماعت اسلامی ہند تلنگانہ نے کارروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا ۔۔