Friday , January 24 2020

شہریت ترمیمی بل کیخلاف ملک بھر میں مسلمانوں کا شدید احتجاج

نماز جمعہ کے بعد دعائیں، مساجد کے باہر پلے کارڈس کے ساتھ مظاہرے، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپ، کئی زخمی

نئی دہلی 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) شہریت ترمیمی بل کے خلاف آج جمعہ کے موقع پر ملک بھر میں مسلمانوں نے شدید احتجاجی مظاہرے کئے۔ نماز جمعہ کے بعد خصوصی دعائیں ہوئیں اور مساجد کے باہر پلے کارڈس تھامے ہوئے ہزاروں افراد نے اِس بل کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ بل کے خلاف آسام میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ اب یہ احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا ہے۔ مغربی بنگال میں بھی جگہ جگہ نریندر مودی حکومت کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ دارالحکومت دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میدان جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یہاں طلبہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ طلبہ چاہتے تھے کہ وہ بل کے خلاف پارلیمنٹ تک مارچ نکالیں لیکن پولیس نے انھیں آگے بڑھنے نہیں دیا۔ اس کے فوری بعد عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان مقام پر پہونچ گئے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ پولیس اور طلبہ کے درمیان تشدد کے باعث 42 طلباء زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے احتجاجی طلباء کو یونیورسٹی گیٹ پر ہی روک دیا اور انھیں مارچ نکالنے کی اجازت نہیں دی۔ پولیس کے مطابق 12 ملازمین پولیس بھی زخمی ہوئے ہیں، اِن میں سے 2 کی حالت نازک بتائی گئی ہے جنھیں آئی سی یو میں رکھا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے انتظامیہ نے کہاکہ تقریباً 100 طلباء زخمی ہوئے ہیں اور اِن میں تقریباً ایک درجن طلباء کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ پولیس نے اندھا دھند طریقہ سے طلباء کو نشانہ بنایا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ طلباء کو منتشر کرنے کے لئے اِس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ طلباء سنگباری میں ملوث تھے، انھیں روکنے کے لئے کئی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ طلباء جنھیں پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کا نشانہ بنایا گیا، الزام عائد کیاکہ پولیس نے اِن کے مارچ کو ناکام بنانے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پولیس نے دعویٰ کیاکہ بعض طلباء نے یونیورسٹی کے اندر سے پولیس پر سنگباری شروع کی۔ جس کے بعد ہی پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ تاہم احتجاجیوں نے الزام عائد کیاکہ پولیس نے ہی پہلے طلباء پر سنگباری کی، اس کے جواب میں طلباء نے بھی اِس پر حملہ کیا۔ احتجاجی طلباء کی تعداد تقریباً ایک ہزار بتائی گئی ہے۔ طلباء نے یونیورسٹی کی گیٹ نمبر 7 سے مارچ نکالنا شروع کیا اور سکھ دیو وہار میٹرو اسٹیشن تک مارچ نکالنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی یہ مارچ سکھ دیو وہار کی طرف بڑھنے لگا، طلباء نے این آر سی ہائے ہائے، سی اے بی واپس لو، بی جے پی ہائے ہائے اور انقلاب زندہ باد جیسے نعرے لگائے۔ طلباء کے ہاتھ میں وزیرداخلہ امیت شاہ کا پتلا بھی تھا جس پر اُنھوں نے کالک پوت دی تھی۔ طلباء کا احتجاج تشدد میں تبدیل ہوگیا تو پولیس نے آنسو گیس شل برسائے۔ سوشل میڈیا پر طلباء کی جانب سے گشت کروائے جارہے ویڈیو میں بتایا گیا کہ پولیس اِن پر اندھا دھند طریقہ سے لاٹھی چارج کررہی ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ ہم پرامن طریقہ سے مارچ نکال رہے تھے۔ پولیس نے ہمیں مارچ نکالنے سے روک دیا۔ اوّل پولیس نے ہم پر لاٹھی چارج کیا اور پیچھے چلے جانے کے لئے دباؤ ڈالا اس کے بعد پولیس نے ہم پر سنگباری بھی شروع کی۔ اس کے جواب میں طلباء نے بھی پتھر اُٹھالئے۔ طلباء نے الزام عائد کیاکہ یہ پولیس کی ہی غلطی تھی کہ اُس نے سنگباری شروع کی اور اُس کے بعد ہمیں نشانہ بناتے ہوئے آنسو گیس شل برسائے۔ پولیس کی اِس کارروائی میں کئی طلباء زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم پولیس نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔ کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ پرویز ہاشمی بھی اِس موقع پر موجود تھے۔ اُنھوں نے گرفتار شدہ طلباء کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کے عہدیدار نے کہاکہ شہریت ترمیمی بل قانون 2019 دراصل مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک ہے جبکہ ظلم کا شکار گروپس کا تحفظ کرنے کا فیصلہ قابل خیرمقدم ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے فیصلے قومی پناہ گزین نظام کے تحت کرے جس میں ہر ایک کو یکساں حقوق دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ اِس میں کسی کے ساتھ بھی امتیاز برتا نہیں جاتا۔ مرکز کی نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت نے شہریت ترمیمی بل لاتے ہوئے صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اقوام متحدہ نے اِس کارروائی کی مخالفت کی اور کہاکہ تمام عوام پر لاگو ہونے والے قوانین ہی قابل عمل ہوتے ہیں۔ آسام میں اِس بل کے خلاف تشدد اور احتجاج کے دوران آج ایک 17 سالہ عیسائی نوجوان جو پولیس فائرنگ میں زخمی ہوا تھا، فوت ہوگیا۔ نوجوان کے ارکان خاندان نے الزام عائد کیاکہ پولیس نے اسے ناحق نشانہ بنایا۔ وہ مخالف شہریت ترمیمی بل کے ایک گروپ سے ہٹ کر فٹ پاتھ پر سے جارہا تھا کہ اُسے گولی مار دی گئی۔ آسام میں کئی جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔ مغربی بنگال میں نئے قانون شہریت کے خلاف تشدد اور مظاہرے ہوئے۔ دو ریلوے اسٹیشنوں میں توڑ پھوڑ مچائی گئی۔ بعض ٹرینوں کو نقصان پہنچایا گیا اور پٹریوں پر احتجاجیوں نے دھرنا دیا۔ ایک ریلوے اسٹیشن کو آگ لگادی گئی۔ کیرالا میں حکمراں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ اور اپوزیشن یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے مل کر شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کی اور مشترکہ طور پر اِس بل کی مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ چیف منسٹر پنارائی وجئین اور اپوزیشن لیڈر رمیش چنتلا کے علاوہ دیگر قائدین نے مشترکہ طور پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور مرکز سے مطالبہ کیاکہ وہ فوری طور پر بل واپس لے لے۔

نئے قانون شہریت کیخلاف تشدد اور مظاہرے
بنگال میں دو ریلوے اسٹیشن میں تشدد ، توڑپھوڑ
٭ ترمیم شدہ قانون شہریت کے خلاف مغربی بنگال کے مختلف علاقوں میں احتجاج اور تشدد جاری ہے۔ جمعہ کو ضلع ہوڑا کے ایک ریلوے اسٹیشن میں برہم احتجاجیوں نے توڑپھوڑ کی، بعض ٹرینوں کو نقصان پنچایا اور ڈرائیور کو زخمی کردیا۔ عہدیداروں نے کہا کہ پٹری پر احتجاجی بیٹھ گئے اور ٹرینوں کی نقل و حرکت روک دینا پڑا۔ ادھر مشیرآباد میں احتجاجیوں نے ریلوے اسٹیشن کو آگ لگادی اور وہاں تعینات آر پی ایف جوانوں کی سینکڑوں احتجاجیوں نے پٹائی کردی۔
اروناچل میں امتحانات کا بائیکاٹ، اسٹوڈنٹس سڑکوں پر
٭ ایٹانگر میں سٹیزن شپ ایکٹ کے خلاف احتجاج آج مزید بڑھ گیا جبکہ اروناچل پردیش کی اسٹوڈنٹس یونینوں نے اپنے امتحانات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے شہروں کی سڑکوں پر نکل کر نئے قانون کی فوری منسوخی کا مطالبہ کیا۔ راجیو گاندھی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین اور دیگر یونینوں نے راج بھون سے کافی فاصلہ طئے کرتے ہوئے احتجاجی ریالی نکالی، جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
شیلانگ کے بعض حصوں میں کرفیو میںنرمی
٭ میگھالیہ کے دارالحکومت شیلانگ کے بعض حصوں میں جمعہ کو کرفیو میں نرمی کی گئی۔ یہ کرفیو چہارشنبہ اور جمعرات کو پرتشدد احتجاجوں کے بعد لگائی گئی تاہم گذشتہ 12 گھنٹوں میں کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی جسے دیکھتے ہوئے حکام نے 12 گھنٹے کرفیو ہٹا دیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT