Saturday , April 4 2020

شہریت ترمیمی قانون سے مسلمان بے وطن ہوجائیں گے

ہندوستان میں اقلیتوں کے مستقبل پر یو این سکریٹری جنرل انٹونیوگوتیرس کا اظہار تشویش

نئی دہلی ۔ /20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوتیرس نے ہندوستان میں اقلیتوں کے مستقبل سے متعلق شخصی طور پر تشویش کااظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے نئے شہریت ترمیمی قانون سے بڑی تعداد میں مسلمان بے وطن ہوجائیں گے ۔ پاکستانی اخبار ’’ڈان‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے شہریت ترمیمی قانون سے متعلق تشویش کا اظہار کیا اور ممالک سے کہا کہ وہ انسانی بنیادوں پر قانون سازی کریں ۔ مسلم برادری پر اس قانون کے اثرات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کے بے وطن ہونے کا خطرہ ہے ۔ گوتیرس نے کہا کہ ہندوستان میں نئے شہریت ترمیمی قانون کی منظوری کے بعد ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے مستقبل کو لے کر وہ شخصی طور پر فکرمند ہیں ۔ نئے قانون کے ذریعہ بنگلہ دیش ، پاکستان اور افغانستان میں مذہبی بنیادوں پر ستائے ہوئے اقلیتوں کو ہندوستانی شہریت فراہم کی جائے گی ۔ گوتیرس نے کہا کہ نئے شہریت قانون سازی میں اس بات کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں کہ ان سے شہری بے وطن نہ ہوجائیں ۔ یو این سکریٹری جنرل نے پاکستان کا چار روزہ دورہ کیا اور اس دوران انہوں نے دنیا بھر میں اقوام متحدہ امن فوج میں قائدانہ حصہ ادا کرنے پاکستان کے رول کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اور لفظی جنگ میں کمی ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لئے اہم ہے ۔ انٹونیو گوتیرس نے کشمیر پر ثالثی کی بھی پیشکش کی تھی جس کو ہندوستان نے مسترد کردیا ۔ یو این سکریٹری جنرل نے کشمیر سے متعلق مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ان رپورٹس سے علاقہ کے بنیادی و زمینی حقائق کا اظہار ہوتا ہے جہاں حکومت ہند کی جانب سے /5 اگست 2019 ء کو جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کرنے کے بعد علاقہ لاگ ڈاؤن ہے ۔ کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی رپورٹس کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حالات کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT