احتجاجی مظاہروں میں سیاسی کارکنوں کی عدم شرکت، مذہبی رہنماؤں کی بھی خاموشی
حیدرآباد۔15ڈسمبر۔ حکومت ہند کی جانب سے منظور کئے گئے شہریت ترمیم قانون کی مخالفت عوامی تحریک میں تبدیل ہوچکی ہے اور ملک کے علاوہ شہر حیدرآبادمیں بھی مختلف مقامات پر اس قانون کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے اور کئی تنظیموں اور جماعتوں کی جانب سے باضابطہ اس قانون کے خلاف تحریک چلائی جانے لگی ہے اور جو لوگ اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ان کی بھی امت کے نوجوانوں کی جانب سے نشاندہی کی جا رہی ہے اور ان کی خاموشی پر سوال اٹھائے جانے لگے ہیں۔شہر حیدرآباد میں گذشتہ جمعہ سے روزانہ کے اساس پر جاری مظاہروں کے دوران عوام کی بڑی تعداد اس احتجاج کا حصہ بننے لگے ہیں اور حکومت ہند کے اس قانون کے نفاذ کے خلاف صدائے احتجاج کا اعلان کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے ک اگر اس قانون کو نافذ کیا جاتا ہے تو اس کی مخالفت کی جائے گی اور اس پر عمل نہیں کیا جائے گا اس بات کا اعلان کیا جا رہاہے کہ این آر سی کے دوران کوئی بھی اپنے دستاویزات پیش نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنی شہریت ثابت کرے گا۔ احتجاجی مظاہروں اور برہمی کے اظہار کے دوران بعض گوشوں سے دستاویزات تیار کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے اور دستاویزات تیار کروانے میں مدد کرنے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں جبکہ آدھار کارڈ کے متعلق واضح ہے کہ یہ صرف شناخت کا دستاویز ہوسکتا ہے شہریت کے دستاویز کی صورت میں آدھار کارڈ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔شہر حیدرآباد میں جمعہ کی نماز کے بعد سینکڑوں مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور اس کے علاوہ شہر کے کئی مقامات پر ریالیاں منظم کی گئی اور دوسرے دن یعنی بروز ہفتہ بھی شہریت ترمیم قانون کے خلاف اجلاس اور مظاہرہ کئے گئے جن میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں مشعل کے ساتھ طلبہ نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اسی طرح اتوار کے دن بھی اندرا پارک پر جماعت اسلامی کا بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں شہر حیدرآباد کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے شرکت کی لیکن ایک مخصوص طبقہ کی عدم شرکت کو شدت سے نوٹ کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ کو عوامی احتجاج سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن یہ کوششیں بھی ناکام ہوتی جائیں گی کیونکہ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے ساتھ چہروں پر پڑے نقاب اب الٹنے لگے ہیں۔سابق آئی اے ایس عہدیدارمسٹر کنن گوپی ناتھن نے جو کہ این آر سی اور شہریت ترمیم قانون کی خلاف ورزی کا اعلان کرتے ہوئے تحریک چلا رہے ہیں کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے عوام میں تفرقہ پیدا کرنے کے علاوہ اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کے درمیان گمراہ کن پروپگنڈہ چلایا جائے تاکہ عوام حکومت کی جانب سے کی جانے والی باتوں پر اعتماد کرنے لگ جائیں اور ان احتجاجی مظاہروں کا حصہ نہ بنیں ۔ اس کے علاوہ سرکردہ سماجی کارکنوں اور قائدین کی جانب سے بھی اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام میں تفرقہ پیدا نہ ہو اور وہ اس احتجاج میں شدت پیدا کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں بلکہ فسطائیت اور آمرانہ حکمرانی کے خلاف شروع ہونے والے اس احتجاج کو بااثر و نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کی جائے ۔ سابق میں حکومت کی جانب سے حصول اراضیات قانون کو منظور کیا جاچکا تھا لیکن کسانو ںکی جانب سے ملک بھر میں احتجاج اور مظاہروں کے بعد حکومت نے اس قانون سے دستبرداری اختیار کرلی اسی طرح سماجی جہد کارو ںکا کہناہے کہ اگر حکومت پر دباؤ پڑتا ہے تو وہ اس قانو ن سے بھی دستبرداری اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں جاری احتجاجی مظاہروں میں سیاسی کارکنوں کی عدم شرکت اور سیاستدانوں کے علاوہ سیاسی سرپرستی کے حامل سرکردہ مذہبی رہنماؤں کی خاموشی کو بھی محسوس کیا جا رہاہے اور سوشل میڈیا پر اس پر بھی تبصرے کئے جانے لگے ہیں۔