شہریت قانون غیر دستوری اور انسانیت کے خلاف

   

وزیراعظم کو ملک کے اقلیتوں کی فکر نہیں، سکریٹری پردیش کانگریس محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد۔ 18 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری محمد سلیم نے قومی شہریت قانون کو غیر دستوری اور انسانیت کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ قانون پر عمل آوری کی صورت میں ہندوستان مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی راہ پر چل پڑے گا۔ بل کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سکریٹری پردیش کانگریس نے وزیراعظم کے بیانات پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ نریندر مودی پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے وزرائے اعظم کی طرح بیانات دے رہے ہیں۔ انہیں تینوں پڑوسی ممالک میں مقیم اقلیتوں کی ہندوستان میں موجود اقلیتوں سے زیادہ فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو ملک میں خواتین، بچوں، کسانوں، تاجروں، بیروزگار نوجوانوں اور صنعتوں کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں۔ وہ ملک کے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی سے بے پرواہ ہیں۔ برخلاف اس کے وہ پڑوسی ریاستوں میں بسنے والی اقلیتوں کی فکر کرتے ہوئے قانون سازی کرچکے ہیں۔ پی سی سی سکریٹری نے کہا کہ ملک میں اقلیتوں کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ حالیہ برسوں میں گائو رکھشا کے نام پر ہجومی تشدد میں بے قصور مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا لیکن حکومت نے واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی کارروائی نہیں کی۔ لوجہاد، گھر واپسی، وندے ماترم اور جئے سری رام جیسے تنازعات کے نام پر مسلمان نشانہ بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء سے بی جے پی حکومت ملک کی ترقی میں ناکام ہوسکتی ہے۔ بے روزگاری کی شرح گزشتہ 45 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ شہریت قانون کی منظوری دراصل شمال مشرقی ریاستوں میں ووٹ بینک کو مضبوط کرنا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ اگر شہریت قانون کو واپس نہیں لیا گیا تو ملک بھر میں عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔